تعلیم کا جنازہ!جامعہ کراچی میں سب کچھ بیچا جا رہا ہے سوائے کرسیوں کے.......(قسط اول)
بجٹ ختم، بلڈنگز خستہ ، مستقبل تباہ ! جامعہ کراچی الارم بج رہا ہے
پاکستان کی سب سے بڑی اور معروف جامعہ کراچی دنیا بھر میں جانی پہچانی جاتی ہے. اکہتر سالوں سے جامعہ کراچی پاکستان کی دوسری بڑی جامعہ کی حیثیت سے علمی تحقیقی اور تدریسی خدمات انجام دے رہی ہے. عالمی سطح پر بھی جامعہ کراچی کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے لیکن گذشتہ دو دہائیوں میں اس جامعہ کا معیار مسلسل زوال کا شکار ہے.2002 کی عالمی درجہ بندی میں جامعہ کراچی Higher Education Commission کے تحت نمایاں جامعات میں شمار ہوتی تھی مگر آج صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے. اساتذہ کی کمی ، ابتر سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ کے مسائل، بوسیدہ انفرا اسٹرکچر، ناقص دیکھ بھال اور سیاسی پشت پناہی کے سبب غنڈہ گردی، اساتذہ کا غیر سنجیدہ رویہ طلبا و طالبات میں احساس ذمے داری کے فقدان کا باعث بن رہا ہے. دیوالیہ، بے بس اور بے ایمان انتظامیہ نے جامعہ کراچی کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے. دوسری طرف شہر کے بلڈرز، اسٹیٹ ایجنٹس اور معروف لینڈ گریبرز نے کراچی میں علم کی فروخت کی چھوٹی بڑی منڈیاں کھول لی ہیں اور شہر کے نادر اور معروف تعلیمی اداروں کی نجی کاری میں Higher Education Commission نے بھرپور سہولت کاری کے ذریعے سرکاری جامعات کو گھٹنوں پر لاکھڑا کیا ہے.نجی جامعات جسے عرف عام میں تعلیم کی فروخت کی سپر مارکیٹ کا درجہ حاصل ہوگیا ہے میں طلبہ طالبات کی تعداد بڑھتی چلی گئی. تعلیم کی مکمل تباہی میں جو کسر باقی رہ گئی تھی وہ اٹھارویں آئینی ترمیم نے پوری کردی جس کے تحت تعلیم اور صحت کے معاملات و اختیارات وفاق سے چھین کر صوبوں کو دے دئیے گئے تب سے اختیارات کا بہاو صوبائی حکومت اور وزیر اعلی کی طرف مڑ گیا اور کراچی کے گلی محلوں میں نجی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں خود رو پودوں کی طرح نمودار ہونا شروع ہوگئیں. علم کو کاروبار بنانے کی سرکاری سرپرستی کی وجہ سے Autonomous Universities کا تصور ختم ہو کر رہ گیا ہے جو سندھ میں تعلیم اور صحت کے شعبہ جات کی شدید زبوں حالی کا سبب بن رہا ہے. گذشتہ ایک دہائی سے جامعہ کراچی کی فیسوں میں اضافے نے بھی تعلیمی معیار کو درگور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی فیسوں میں اضافہ کسی طور بھی تعلیم کے معیار سے میل نہیں کھاتا اورحکومت کی طرف سے کسی قسم کی کوئی گرانٹ مقرر نہیں جو طلبہ و طالبات کے لئے مالی مشکلات کا سبب بن رہی ہے. دو سال پہلے جامعہ کراچی کی ٹیوشن فیس میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا۔ بیشتر شعبہ جات کی فیسیں ایک لاکھ روپے فی سمیسٹر سے تجاوز کر چکی ہیں جیسا کہ فارمیسی، قانون، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ جات کی فیسوں کا موازنہ جامعہ سندھ کے ساتھ کیا جائے تو سندھ کی دو الگ الگ معاشی تصویریں سامنے آتی ہیں۔
جامعہ کراچی کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک سمسٹر کی فیس ایک لاکھ جبکہ جامعہ سندھ کے پورے سال کی فیس 20 ہزار روپے ہے اسی طرح شعبہ قانون کے لئے جامعہ کراچی کے طلبہ کے لئے ایک سمسٹر کی فیس 85 ہزار جبکہ جامعہ سندھ میں پورے سال کی فیس 40 ہزار روپے ہے. بیچلر آف سائنس کے طلبہ کے لیے جامعہ کراچی کی سالانہ فیس ایک لاکھ جبکہ اسی مضمون کے جامعہ سندھ کے طلبہ کو سالانہ صرف 25 ہزار روپے ادا کرنے ہوتے ہیں. ایک ہی صوبے کی دو یونیورسٹیوں کی فیسوں میں متعصبانہ فرق کراچی کے ساتھ صوبائی حکومت کے سوتیلے رویوں کی نشاندہی کرتا ہے. فیس کے اس غیر منصفانہ اضافے کی وجہ سے کراچی کے طالب علم نجی شعبے کی سستی دوکانوں کی طرف نکل جاتے ہین اور جامعہ کراچی منہ تکتی رہ جاتی ہے. جامعہ کی بد حالی کی کہانی ابھی جاری ہے۔۔۔
تحریر: بشری سلیم


.jpeg)
Comments