بدلتی دنیا اور مسلم ممالک کی باہمی طاقت اور مشترکہ مستقبل
موجودہ حالات کے تناظر میں کہ پاکستان اور ایران کی تھوڑی سی انڈرسٹینڈنگ نے اور اللہ کی عطا کردہ صلاحیتیں جو پاکستان کو جیو پولیٹیکل صورتحال اور نیوکلیئر پاور ہونے کی وجہ سے حاصل ہیں اور ایران کو خاص طور پر تیل کے ذخائر اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے حاصل ہیں ان سب نے مل کر دنیا میں ایک نئی سوچ پیدا کی ہے ایران کی ثابت قدمی نے عالمی طاقتوں کو بھی مذاکرات کی میز تک آنے پر مجبور کیا ہے اسی تناظر میں یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک کے پاس اپنی اپنی اہمیت اور اپنی اپنی طاقت موجود ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کوئی نہ کوئی خاص صلاحیت دی ہے اسی طرح ہر مسلم ملک کو بھی کوئی نہ کوئی منفرد مقام اور برتری حاصل ہے اگر یہ ممالک واقعی امت کے تصور کے تحت آپس میں بہتر ہم آہنگی پیدا کریں اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو عالمی سطح پر ان کی حیثیت کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتی ہے عالمی اداروں اور بین الاقوامی فورمز پر ہونے والی پالیسی سازی اور فیصلوں میں اگر مسلم ممالک ایک موقف اختیار کریں تو ان کی آواز زیادہ طاقتور بن سک...