Posts

جامعہ کراچی مر رہی ہے! حکومت آرام سے مرنے دو کی پالیسی پر گامزن ہے.........( آخری قسط)

Image
  جامعہ کراچی کے وقار، علمی برتری کو تباہ کرنے میں رہی سہی کسر  18 ویں آئینی ترمیم نے پوری کردی ایک طرف تعلیم کے لئے وفاقی بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا تو دوسری طرف سندھ حکومت کا یہ فرمان کہ جامعہ کراچی اب ہماری ذمہ داری ہے اس کھینچا تانی نے وفاق اور صوبے کے درمیان عجیب مخاصمت پیدا کردی ہے.موجودہ حالات میں جبکہ مہنگائی کا سورج سوا نیزے تک پہنچ چکا ہے اور جامعہ کے لئے فنڈنگ2018 والی ہی چل رہی ہے جس کی وجہ سے جامعہ کراچی شدید مالی بحران کے گرداب میں پھنس چکی ہے. فیسوں میں بھاری اضافے کے باوجود کمترین معیار تعلیم نے طالب علموں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیوں نہ وہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بہتر تعلیمی معیار سے استفادہ کردیں۔ جامعہ کراچی کا ٹرانسپورٹ نظام کبھی بھی عالمی معیار کا نہیں رہا لیکن چار دہائی پہلے کا ٹرانسپورٹ کا نظام جامعہ کراچی کے طالب علموں کے لئے سہانا خواب بن کر رہ گیا ہے. 80 کی دہائی تک جامعہ کراچی کی بسیں کراچی کے ہر کونے کھدرے تک پہنچتی تھیں طلبہ و طالبات کے والدین کی جیبوں پر بیس پیسے سے زیادہ کا کبھی بوجھ نہیں پڑتا تھا اور جامعہ کے طالب علم بغیر کسی تردد کے جا...

تعلیم کا جنازہ!جامعہ کراچی میں سب کچھ بیچا جا رہا ہے سوائے کرسیوں کے.......(قسط اول)

Image
بجٹ ختم،  بلڈنگز خستہ ، مستقبل تباہ !  جامعہ کراچی الارم بج رہا ہے پاکستان کی سب سے بڑی  اور معروف جامعہ کراچی دنیا بھر میں جانی پہچانی جاتی ہے.  اکہتر سالوں سے جامعہ کراچی پاکستان کی دوسری بڑی جامعہ کی حیثیت سے علمی تحقیقی اور تدریسی خدمات انجام دے رہی ہے. عالمی سطح پر بھی جامعہ کراچی کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے لیکن گذشتہ دو دہائیوں میں اس جامعہ کا معیار مسلسل زوال کا شکار ہے.2002 کی عالمی درجہ بندی میں جامعہ کراچی Higher Education Commission کے تحت  نمایاں جامعات میں شمار ہوتی تھی مگر آج صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے.  اساتذہ کی کمی ،  ابتر سیکیورٹی،  ٹرانسپورٹ کے مسائل،  بوسیدہ انفرا اسٹرکچر،  ناقص دیکھ بھال اور سیاسی پشت پناہی کے سبب غنڈہ گردی،  اساتذہ کا غیر سنجیدہ رویہ طلبا و طالبات میں احساس ذمے داری کے فقدان کا باعث بن رہا ہے. دیوالیہ،  بے بس اور بے ایمان انتظامیہ نے جامعہ کراچی کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے.  دوسری طرف شہر کے بلڈرز، اسٹیٹ ایجنٹس اور معروف لینڈ گریبرز نے کراچی میں علم کی فروخت کی چھوٹی بڑی من...

U.S.-Iran Rivalry in the Shadow of China's Rise

Image
America's partnership with the GCC The strategic rivalry between the United States and Iran represents one of the most enduring and volatile fault lines in the Middle East. At its core, the confrontation centers on competing visions for regional order, control of energy resources, and influence over critical maritime chokepoints. For Washington, Iran’s aspirations for regional primacy and its resistance to U.S. military presence threaten longstanding alliances and the free flow of energy. For Tehran, American sanctions, military deployments, and support for regional partners constitute an effort to contain its legitimate influence as a major Persian Gulf power. This bilateral rivalry has deep historical roots, intensified since the 1979 Iranian Revolution. Today, it manifests in proxy conflicts across Iraq, Syria, Lebanon, and Yemen, as well as in diplomatic maneuvering over Iran’s nuclear program. The United States maintains a robust network of security partnerships with Gulf Co...

ایران امریکہ تنازع کا حل

Image
دنیا کی سیاست ہمیشہ مفادات ، طاقت اور بہترین حکمت عملی کے گرد گھومتی ہے ۔ بعض اوقات بڑے ممالک اپنے فیصلوں میں اس حد تک پراعتماد ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسرے فریق کے ردعمل کو کم سمجھ لیتے ہیں لیکن جب عملی میدان میں حالات سامنے آتے ہیں تو پوری تصویر بدل جاتی ہے۔ تب صورتحال ایسی ہو جاتی ہے جیسے ایک گاڑی ٹریفک میں پھنس جائے۔۔۔آگے بڑھے تو نقصان۔۔۔ پیچھے ہٹے تو بھی مسئلہ اور  اگر رک جائے تو بحران بڑھتا چلا جائے۔ ایران اور امریکہ کا موجودہ تنازع بھی اسی پیچیدہ کیفیت میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہے۔ موجودہ  تناظر میں اگر دیکھا جائے تو تین ایسے ممکنہ راستے موجود ہیں جن کے ذریعے دونوں ممالک نہ صرف اپنی خودداری اور قومی وقار کو برقرار رکھ سکتے ہیں بلکہ دونوں ملک ایک حقیقی کامیاب حل کے ساتھ دنیا کو بھی استحکام دے سکتے ہیں۔ پہلا راستہ ایک تکنیکی معاہدے کا ہے جس میں سیاسی نعرے بازی کے بجائے عملی فریم ورک پر اتفاق کیا جائے۔ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کو شفاف اور محدود رکھے جبکہ امریکہ مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی کرے ۔ اس پورے عمل میں غیر متنازعہ عالمی ادارے نگرانی کر...

بدلتی دنیا اور مسلم ممالک کی باہمی طاقت اور مشترکہ مستقبل

Image
  موجودہ حالات کے تناظر میں کہ پاکستان اور ایران کی تھوڑی سی انڈرسٹینڈنگ نے اور اللہ کی عطا کردہ صلاحیتیں جو پاکستان کو جیو پولیٹیکل صورتحال اور نیوکلیئر پاور ہونے کی وجہ سے حاصل ہیں اور ایران کو خاص طور پر تیل کے ذخائر اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے حاصل ہیں ان سب نے مل کر دنیا میں ایک نئی سوچ پیدا کی ہے ایران کی ثابت قدمی نے عالمی طاقتوں کو بھی مذاکرات کی میز تک آنے پر مجبور کیا ہے اسی تناظر میں یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک کے پاس اپنی اپنی اہمیت اور اپنی اپنی طاقت موجود ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کوئی نہ کوئی خاص صلاحیت دی ہے اسی طرح ہر مسلم ملک کو بھی کوئی نہ کوئی منفرد مقام اور برتری حاصل ہے اگر یہ ممالک واقعی امت کے تصور کے تحت آپس میں بہتر ہم آہنگی پیدا کریں اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو عالمی سطح پر ان کی حیثیت کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتی ہے عالمی اداروں اور بین الاقوامی فورمز پر ہونے والی پالیسی سازی اور فیصلوں میں اگر مسلم ممالک ایک موقف اختیار کریں تو ان کی آواز زیادہ طاقتور بن سک...

سخاوت — دل کی وسعت کا نام

Image
انسان انسان ہوتا ہے، فرشتہ نہیں بن  سکتا۔ ہر انسان میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور خامیاں بھی۔ ہم آج کل کے حالات کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو اکثر ہمیں بہت زیادہ برائیوں میں سے کم تر درجے کی برائی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے کیونکہ کامل انسان کہیں نہیں ملتا۔ زندگی کے اسی تجربے نے ایک بات سکھائی ہے کہ سخاوت یا سخی ہونا ایسی خوبی ہے جو انسان کی بے شمار کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے جبکہ بخل یا کنجوسی ایسی خامی ہے جو انسان کی بہت ساری خوبیوں کو بھی دبا دیتی ہے۔ عام طور پر جب ہم سخاوت کا لفظ سنتے ہیں تو فوراً ذہن میں یہی آتا ہے کہ کوئی شخص پیسہ خرچ کرتا ہو، اس کا دسترخوان وسیع ہو، وہ مالی مدد کرتا ہو۔ بلاشبہ یہ بھی سخاوت ہے، لیکن آج کے حالات میں ایک اور قسم کی کمی بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ بعض لوگ اس قدر کنجوس ہوتے ہیں کہ کسی کی صحیح بات کی بھی تائید نہیں کرتے صرف اس لیے کہ دل میں ماضی کی کوئی تلخی موجود ہوتی ہے۔ کسی کی تخلیق، کسی کی کامیابی یا کسی کے اچھے کام کی تعریف نہیں کرتے کیونکہ دل کے اندر کہیں نہ کہیں بخل یا بغض بیٹھا ہوتا ہے۔ اہل عقل و شعور کا ماننا ہے کہ یہ کنجوسی کی انتہا ہے۔ یہ وہ بخل ...

اللہ پہ توکل ہی کامیابی کا راستہ ہے....اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے

Image
  انسانی زندگی میں دکھ، تکلیف، نقصان اور آزمائشیں آنا کوئی نئی بات نہیں۔ خاص طور پر جب انسان کاروبار سے وابستہ ہو یا معاشرے میں لوگوں کے درمیان زندگی گزار رہا ہو تو روزانہ کسی نہ کسی امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی مالی نقصان، کبھی لوگوں کے رویّے، کبھی جذباتی دھچکے—یہ سب چیزیں انسان کو اندر سے توڑنے لگتی ہیں ۔ میں جب اللہ پر توکل کے بارے میں سوچتا ہوں تو ایک مثال بار بار ذہن میں آتی ہے، اور وہ ہے پین کلر۔ جب ہمیں کوئی چوٹ لگتی ہے یا شدید درد ہوتا ہے تو ڈاکٹر ہمیں پین کلر دیتے ہیں۔ اس دوا سے نہ تو زخم فوراً ختم ہو جاتا ہے اور نہ ہی مسئلہ ایک دم حل ہوتا ہے، مگر ہوتا یہ ہے کہ ہماری درد محسوس کرنے کی صلاحیت وقتی طور پر کم ہو جاتی ہے۔ درد اپنی جگہ موجود رہتا ہے، لیکن ہم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اسے برداشت کر سکیں۔ اسی دوران زخم کو ٹھیک ہونے کا وقت ملتا ہے، اور آہستہ آہستہ ہم نارمل زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ سرجری یا کسی بڑے آپریشن کے بعد ہوتا ہے۔ شروع میں درد کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے، مگر پین کلرز اس شدت کو کم کر دیتے ہیں۔ وقت گزرتا ہے، زخم بھرنے لگتا ہے، اور مریض دوبارہ اپن...