اللہ پہ توکل ہی کامیابی کا راستہ ہے....اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے

 انسانی زندگی میں دکھ، تکلیف، نقصان اور آزمائشیں آنا کوئی نئی بات نہیں۔ خاص طور پر جب انسان کاروبار سے وابستہ ہو یا معاشرے میں لوگوں کے درمیان زندگی گزار رہا ہو تو روزانہ کسی نہ کسی امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی مالی نقصان، کبھی لوگوں کے رویّے، کبھی جذباتی دھچکے—یہ سب چیزیں انسان کو اندر سے توڑنے لگتی ہیں۔

میں جب اللہ پر توکل کے بارے میں سوچتا ہوں تو ایک مثال بار بار ذہن میں آتی ہے، اور وہ ہے پین کلر۔

جب ہمیں کوئی چوٹ لگتی ہے یا شدید درد ہوتا ہے تو ڈاکٹر ہمیں پین کلر دیتے ہیں۔ اس دوا سے نہ تو زخم فوراً ختم ہو جاتا ہے اور نہ ہی مسئلہ ایک دم حل ہوتا ہے، مگر ہوتا یہ ہے کہ ہماری درد محسوس کرنے کی صلاحیت وقتی طور پر کم ہو جاتی ہے۔ درد اپنی جگہ موجود رہتا ہے، لیکن ہم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اسے برداشت کر سکیں۔ اسی دوران زخم کو ٹھیک ہونے کا وقت ملتا ہے، اور آہستہ آہستہ ہم نارمل زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔

بالکل یہی معاملہ سرجری یا کسی بڑے آپریشن کے بعد ہوتا ہے۔ شروع میں درد کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے، مگر پین کلرز اس شدت کو کم کر دیتے ہیں۔ وقت گزرتا ہے، زخم بھرنے لگتا ہے، اور مریض دوبارہ اپنی روزمرہ زندگی میں واپس آ جاتا ہے۔

میں اسی اصول کو اللہ پر توکل کے ساتھ جوڑتا ہوں۔

زندگی میں جب نقصان ہوتا ہے، خاص طور پر کاروبار میں، یا جب معاشرے میں رہتے ہوئے لوگ آپ کے جذبات سے کھیلتے ہیں، آپ کو ذہنی اذیت دیتے ہیں، تو وہ درد حقیقی ہوتا ہے۔ توکل اس نقصان کو فوراً ختم نہیں کرتا، مگر یہ انسان کے دل کو وہ طاقت دیتا ہے کہ وہ ٹوٹنے کے بجائے کھڑا رہے۔

اللہ پر توکل انسان کے لیے ایک روحانی پین کلر ہے۔

یہ دل کو سکون دیتا ہے، حوصلہ برقرار رکھتا ہے، اور انسان کو کوشش جاری رکھنے کی طاقت دیتا ہے۔ نقصان کم ہو یا زیادہ، توکل انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ رزق کا مالک اللہ ہے، اور اگر آج کچھ چلا گیا ہے تو کل اس سے بہتر عطا کرنے پر بھی وہی قادر ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔”

(سورۃ الطلاق: 3)

تاکہ وہ دوبارہ وسائل پیدا کر سکے، دوبارہ کھڑا ہو سکے اور اپنے نقصان کو ریکور کر سکے۔

نبی کریم ﷺ نے بھی توکل کے بارے میں بہت خوبصورت بات فرمائی:

“اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جیسے توکل کرنے کا حق ہے، تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے گا جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔”

(ترمذی)

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں، بلکہ کوشش کے ساتھ اللہ پر بھروسا رکھنا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پین کلر درد کم کرتا ہے مگر شفا وقت کے ساتھ آتی ہے، ویسے ہی توکل دل کو سنبھالتا ہے اور حل وقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پین کلر جسمانی درد کے لیے ہوتا ہے، اور اللہ پر توکل روح اور دل کے درد کے لیے۔

دونوں انسان کو وقت دیتے ہیں—ٹوٹنے کے بجائے سنبھلنے کا۔

اللہ کریم ہم سب کو اپنے اوپر سچا اور مضبوط توکل عطا فرمائے، اور ہمیں ہر نقصان کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کی ہمت دے۔ آمین۔


سنگی راشد محمود اعوان



Comments

Popular posts from this blog

جامعہ کراچی کی ایک یادگار بیٹھک

زمینی گدھ پلی بارگین کر کے اپنے مال واسباب میں موجود اضافی بوجھ بیوی، بیوی، سالے،داماد، بہنوئی، بھانجے بھتیجے میں تقسیم کرکے آسمانی گدھ کی طرح دوبارہ سے اسی کام میں جت جاتے ہیں.

جنرل راحیل شریف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر تک ہم آج بھی 2015 میں کھڑے ہیں.....ماضی کاایک کالم جس میں شخصیات کی ترتیب قاری خود دے سکتے ہیں؟