بدلتی دنیا اور مسلم ممالک کی باہمی طاقت اور مشترکہ مستقبل
موجودہ حالات کے تناظر میں کہ پاکستان اور ایران کی تھوڑی سی انڈرسٹینڈنگ نے اور اللہ کی عطا کردہ صلاحیتیں جو پاکستان کو جیو پولیٹیکل صورتحال اور نیوکلیئر پاور ہونے کی وجہ سے حاصل ہیں اور ایران کو خاص طور پر تیل کے ذخائر اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے حاصل ہیں ان سب نے مل کر دنیا میں ایک نئی
سوچ پیدا کی ہے ایران کی ثابت قدمی نے عالمی طاقتوں کو بھی مذاکرات کی میز تک آنے پر مجبور کیا ہے
اسی تناظر میں یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک کے پاس اپنی اپنی اہمیت اور اپنی اپنی طاقت موجود ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کوئی نہ کوئی خاص صلاحیت دی ہے اسی طرح ہر مسلم ملک کو بھی کوئی نہ کوئی منفرد مقام اور برتری حاصل ہے اگر یہ ممالک واقعی امت کے تصور کے تحت آپس میں بہتر ہم آہنگی پیدا کریں اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو عالمی سطح پر ان کی حیثیت کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتی ہے
عالمی اداروں اور بین الاقوامی فورمز پر ہونے والی پالیسی سازی اور فیصلوں میں اگر مسلم ممالک ایک موقف اختیار کریں تو ان کی آواز زیادہ طاقتور بن سکتی ہے مگر باہمی اختلافات اور کمزور تعاون کی وجہ سے اب تک یہ طاقت پوری طرح استعمال نہیں ہو سکی اگر مسلم ممالک اپنے اختلافات کو کم کر کے ایک دوسرے کے ساتھ
خلوص اور تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں تو دنیا میں ان کا وقار اور اثر و رسوخ مزید مضبوط ہو سکتا ہے
اس سوچ کو عملی شکل دینے کے لیے او آئی سی جیسے فورمز کو مضبوط بنانا ضروری ہے او آئی سی کا 2026 سے 2035 پروگرام آف ایکشن اقتصادی تعاون سائنس اور مشترکہ چیلنجز پر زور دیتا ہے پاکستان ایران گیس پائپ لائن سعودی مالیاتی طاقت ترکی کی صنعت اور انڈونیشیا کی معاشی ترقی کو ملا کر ایک مضبوط اقتصادی بلاک بنایا جا سکتا ہے تاہم فرقہ وارانہ تناؤ اور بیرونی اثرات رکاوٹیں ہیں انہیں دور کرنے کے لیے اعتماد سازی عوامی رابطے اور مشترکہ پروجیکٹس کی ضرورت ہے اگر مسلم ممالک اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو خلوص اور حکمت سے استعمال کریں تو انکا عالمی وقار بڑھے گا اور امن و ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکیں گے
تحریر: سنگی راشد محمود اعوان

Comments