Posts

Showing posts from April, 2026

ایران امریکہ تنازع کا حل

Image
دنیا کی سیاست ہمیشہ مفادات ، طاقت اور بہترین حکمت عملی کے گرد گھومتی ہے ۔ بعض اوقات بڑے ممالک اپنے فیصلوں میں اس حد تک پراعتماد ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسرے فریق کے ردعمل کو کم سمجھ لیتے ہیں لیکن جب عملی میدان میں حالات سامنے آتے ہیں تو پوری تصویر بدل جاتی ہے۔ تب صورتحال ایسی ہو جاتی ہے جیسے ایک گاڑی ٹریفک میں پھنس جائے۔۔۔آگے بڑھے تو نقصان۔۔۔ پیچھے ہٹے تو بھی مسئلہ اور  اگر رک جائے تو بحران بڑھتا چلا جائے۔ ایران اور امریکہ کا موجودہ تنازع بھی اسی پیچیدہ کیفیت میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہے۔ موجودہ  تناظر میں اگر دیکھا جائے تو تین ایسے ممکنہ راستے موجود ہیں جن کے ذریعے دونوں ممالک نہ صرف اپنی خودداری اور قومی وقار کو برقرار رکھ سکتے ہیں بلکہ دونوں ملک ایک حقیقی کامیاب حل کے ساتھ دنیا کو بھی استحکام دے سکتے ہیں۔ پہلا راستہ ایک تکنیکی معاہدے کا ہے جس میں سیاسی نعرے بازی کے بجائے عملی فریم ورک پر اتفاق کیا جائے۔ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کو شفاف اور محدود رکھے جبکہ امریکہ مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی کرے ۔ اس پورے عمل میں غیر متنازعہ عالمی ادارے نگرانی کر...

بدلتی دنیا اور مسلم ممالک کی باہمی طاقت اور مشترکہ مستقبل

Image
  موجودہ حالات کے تناظر میں کہ پاکستان اور ایران کی تھوڑی سی انڈرسٹینڈنگ نے اور اللہ کی عطا کردہ صلاحیتیں جو پاکستان کو جیو پولیٹیکل صورتحال اور نیوکلیئر پاور ہونے کی وجہ سے حاصل ہیں اور ایران کو خاص طور پر تیل کے ذخائر اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے حاصل ہیں ان سب نے مل کر دنیا میں ایک نئی سوچ پیدا کی ہے ایران کی ثابت قدمی نے عالمی طاقتوں کو بھی مذاکرات کی میز تک آنے پر مجبور کیا ہے اسی تناظر میں یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک کے پاس اپنی اپنی اہمیت اور اپنی اپنی طاقت موجود ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کوئی نہ کوئی خاص صلاحیت دی ہے اسی طرح ہر مسلم ملک کو بھی کوئی نہ کوئی منفرد مقام اور برتری حاصل ہے اگر یہ ممالک واقعی امت کے تصور کے تحت آپس میں بہتر ہم آہنگی پیدا کریں اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو عالمی سطح پر ان کی حیثیت کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتی ہے عالمی اداروں اور بین الاقوامی فورمز پر ہونے والی پالیسی سازی اور فیصلوں میں اگر مسلم ممالک ایک موقف اختیار کریں تو ان کی آواز زیادہ طاقتور بن سک...

سخاوت — دل کی وسعت کا نام

Image
انسان انسان ہوتا ہے، فرشتہ نہیں بن  سکتا۔ ہر انسان میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور خامیاں بھی۔ ہم آج کل کے حالات کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو اکثر ہمیں بہت زیادہ برائیوں میں سے کم تر درجے کی برائی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے کیونکہ کامل انسان کہیں نہیں ملتا۔ زندگی کے اسی تجربے نے ایک بات سکھائی ہے کہ سخاوت یا سخی ہونا ایسی خوبی ہے جو انسان کی بے شمار کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے جبکہ بخل یا کنجوسی ایسی خامی ہے جو انسان کی بہت ساری خوبیوں کو بھی دبا دیتی ہے۔ عام طور پر جب ہم سخاوت کا لفظ سنتے ہیں تو فوراً ذہن میں یہی آتا ہے کہ کوئی شخص پیسہ خرچ کرتا ہو، اس کا دسترخوان وسیع ہو، وہ مالی مدد کرتا ہو۔ بلاشبہ یہ بھی سخاوت ہے، لیکن آج کے حالات میں ایک اور قسم کی کمی بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ بعض لوگ اس قدر کنجوس ہوتے ہیں کہ کسی کی صحیح بات کی بھی تائید نہیں کرتے صرف اس لیے کہ دل میں ماضی کی کوئی تلخی موجود ہوتی ہے۔ کسی کی تخلیق، کسی کی کامیابی یا کسی کے اچھے کام کی تعریف نہیں کرتے کیونکہ دل کے اندر کہیں نہ کہیں بخل یا بغض بیٹھا ہوتا ہے۔ اہل عقل و شعور کا ماننا ہے کہ یہ کنجوسی کی انتہا ہے۔ یہ وہ بخل ...