سخاوت — دل کی وسعت کا نام

انسان انسان ہوتا ہے، فرشتہ نہیں بن  سکتا۔ ہر انسان میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور خامیاں بھی۔ ہم آج کل کے حالات کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو اکثر ہمیں بہت زیادہ برائیوں میں سے کم تر درجے کی برائی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے کیونکہ کامل انسان کہیں نہیں ملتا۔ زندگی کے اسی تجربے نے ایک بات سکھائی ہے کہ سخاوت یا سخی ہونا ایسی خوبی ہے جو انسان کی بے شمار کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے جبکہ بخل یا کنجوسی ایسی خامی ہے جو انسان کی بہت ساری خوبیوں کو بھی دبا دیتی ہے۔

عام طور پر جب ہم سخاوت کا لفظ سنتے ہیں تو فوراً ذہن میں یہی آتا ہے کہ کوئی شخص پیسہ خرچ کرتا ہو، اس کا دسترخوان وسیع ہو، وہ مالی مدد کرتا ہو۔ بلاشبہ یہ بھی سخاوت ہے، لیکن آج کے حالات میں ایک اور قسم کی کمی بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ بعض لوگ اس قدر کنجوس ہوتے ہیں کہ کسی کی صحیح بات کی بھی تائید نہیں کرتے صرف اس لیے کہ دل میں ماضی کی کوئی تلخی موجود ہوتی ہے۔ کسی کی تخلیق، کسی کی کامیابی یا کسی کے اچھے کام کی تعریف نہیں کرتے کیونکہ دل کے اندر کہیں نہ کہیں بخل یا بغض بیٹھا ہوتا ہے۔

اہل عقل و شعور کا ماننا ہے کہ یہ کنجوسی کی انتہا ہے۔ یہ وہ بخل ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ انسان کو معاشرے میں گمنام کر دیتا ہے۔ ایسے لوگ آہستہ آہستہ مکھیوں کی اس عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ پورے جسم کو چھوڑ کر صرف زخم والی جگہ پر بیٹھیں جیسے مکھی کی فطرت ہوتی ہے۔ خوبیوں پر نظر نہیں جاتی خامیوں پر فوراً توجہ مرکوز ہو جاتی ہے۔

ہم سب کو یہ سوچنا چاہیے کہ زندگی کے دیگر معاملات میں سخاوت کرتے کرتے اس پہلو کو بھی ذہن میں رکھیں کہ حق بات کی تائید کرنا بھی سخاوت ہے۔ کسی کی کامیابی کو دل سے تسلیم کرنا بھی سخاوت ہے۔ کسی کے اچھے کام کی تعریف کرنا سخاوت کا بہت اعلیٰ درجہ ہے۔ تعریف کرنے سے انسان چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ اس کا ظرف بڑا ہوتا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ بہتر ہو تعلقات مضبوط ہوں اور مثبت سوچ عام ہو تو ہمیں مال کے ساتھ ساتھ دل اور زبان میں بھی سخاوت پیدا کرنی ہوگی۔ یہی وہ وسعت ہے جو انسان کی شخصیت کو بلند کرتی ہے اور اسے یادگار بنا دیتی ہے۔

تحریر: سنگی راشد محمود اعوان


Comments

Popular posts from this blog

جامعہ کراچی کی ایک یادگار بیٹھک

زمینی گدھ پلی بارگین کر کے اپنے مال واسباب میں موجود اضافی بوجھ بیوی، بیوی، سالے،داماد، بہنوئی، بھانجے بھتیجے میں تقسیم کرکے آسمانی گدھ کی طرح دوبارہ سے اسی کام میں جت جاتے ہیں.

جنرل راحیل شریف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر تک ہم آج بھی 2015 میں کھڑے ہیں.....ماضی کاایک کالم جس میں شخصیات کی ترتیب قاری خود دے سکتے ہیں؟