ایران امریکہ تنازع کا حل

دنیا کی سیاست ہمیشہ مفادات ، طاقت اور بہترین حکمت عملی کے گرد گھومتی ہے ۔ بعض اوقات بڑے ممالک


اپنے فیصلوں میں اس حد تک پراعتماد ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسرے فریق کے ردعمل کو کم سمجھ لیتے ہیں لیکن جب عملی میدان میں حالات سامنے آتے ہیں تو پوری تصویر بدل جاتی ہے۔ تب صورتحال ایسی ہو جاتی ہے جیسے ایک گاڑی ٹریفک میں پھنس جائے۔۔۔آگے بڑھے تو نقصان۔۔۔ پیچھے ہٹے تو بھی مسئلہ اور  اگر رک جائے تو بحران بڑھتا چلا جائے۔


ایران اور امریکہ کا موجودہ تنازع بھی اسی پیچیدہ کیفیت میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہے۔ موجودہ  تناظر میں اگر دیکھا جائے تو تین ایسے ممکنہ راستے موجود ہیں جن کے ذریعے دونوں ممالک نہ صرف اپنی خودداری اور قومی وقار کو برقرار رکھ سکتے ہیں بلکہ دونوں ملک ایک حقیقی کامیاب حل کے ساتھ دنیا کو بھی استحکام دے سکتے ہیں۔


پہلا راستہ ایک تکنیکی معاہدے کا ہے جس میں سیاسی نعرے بازی کے بجائے عملی فریم ورک پر اتفاق کیا جائے۔ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کو شفاف اور محدود رکھے جبکہ امریکہ مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی کرے ۔ اس پورے عمل میں غیر متنازعہ عالمی ادارے نگرانی کریں تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔ اس ماڈل کی خوبصورتی یہ ہوگی کہ کوئی بھی فریق خود کو شکست خوردہ محسوس نہیں کرے گا بلکہ اس معاہدے کو ایک بین الاقوامی سیکیورٹی تعاون کے طور پر پیش کیا جاسکے گا۔ 

دوسرا راستہ ثالثی اور مرحلہ وار تنازع کی شدت کم کرنے کا ہے۔ اس میں براہِ راست ٹکراؤ کے بجائے غیر جانبدار ممالک  جن پر ایران اور امریکہ کو یکساں اعتماد ہو کے ذریعے مذاکرات آگے بڑھائے جائیں۔ فوری اور جامع اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں تاکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے بارے میں اپنے تحفظات کو آہستہ آہستہ کم کر سکیں۔ یہ طریقہ کسی بھی فریق کے لیے فوری دباؤ یا سیاسی نقصان کا باعث نہیں بنے گا بلکہ اسے ایک تدریجی اور متوازن سفارتی عمل میں تبدیل کر دے گا۔

تیسرا راستہ ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کا ہے جس میں صرف دو ممالک نہیں بلکہ پورا خطہ شامل ہو۔ اس ماڈل میں توانائی، سیکیورٹی اور عدم مداخلت جیسے اصولوں پر اتفاق کیا جائے۔ جب تمام فریق ایک ادارہ جاتی نظام کے اندر آ جاتے ہیں تو تنازعات ذاتی یا دوطرفہ نہیں رہتے بلکہ ایک منظم مکینزم کے تحت حل ہوتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو طویل المدتی امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں طاقت کا استعمال نہیں بلکہ توازن اور تدبر ہی اصل کامیابی ہے۔ ایران اور امریکہ جیسے بڑے تنازعات بھی اسی وقت حل ہو سکتے ہیں جب دونوں فریق جیتنے کے بجائے حل کرنے کے فلسفے کو اپنائیں کیونکہ حقیقی جیت وہی ہے جس میں کسی کی ہار شامل نہ ہو۔


تحریر: سنگی راشد محمود


Comments

Popular posts from this blog

جامعہ کراچی کی ایک یادگار بیٹھک

زمینی گدھ پلی بارگین کر کے اپنے مال واسباب میں موجود اضافی بوجھ بیوی، بیوی، سالے،داماد، بہنوئی، بھانجے بھتیجے میں تقسیم کرکے آسمانی گدھ کی طرح دوبارہ سے اسی کام میں جت جاتے ہیں.

جنرل راحیل شریف سے فیلڈ مارشل عاصم منیر تک ہم آج بھی 2015 میں کھڑے ہیں.....ماضی کاایک کالم جس میں شخصیات کی ترتیب قاری خود دے سکتے ہیں؟