Posts

Image
میانمار کی جمہوریت کے فاتح اور ایک صفحے کے مندرجات!  نصف صدی تک اقتدار پر براجما ن رہنے والی میانمار کی فوج پر اقتدار سے دوری کے دس سال کتنے کٹھن گذرے ہونگے اس کا اندازہ جمہوریت کی علامت آنگ سان سوچی اور آمریت کے نقیب جنرل من آنگ ہلاینگ کی اخبارات میں چھپنے والی تصویروں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے. جنرل آنگ کا مؤدبانہ انداز اور آنگ سان سوچی کے چہرے کی طمانیت بتا رہی تھی کہ دونوں ایک صفحے پر ہیں. کہیں دور دور تک ایسی کوئی علامت دکھائی نہیں دے رہی تھی جس سے یہ سمجھا جاتا کہ کل نہ جانے ہم کہاں ہوں اور تم کہاں؟ بہت دور کی بات نہیں 1977 کے اوائل میں جنرل ضیا الحق اور ذولفقار علی بھٹو کے درمیاں بھی ایسی ہی گاڑہی چھنتی تھی جیسا جنرل من آنگ اور آنگ سان سوچی کی تصاویر میں دکھائی دے رہا ہے. جنرل ضیا الحق ذولفقار علی بھٹو کے ارد گرد ایسے مؤدبانہ انداز میں متحرک دکھائی دیتے تھے جیسے ذولفقار علی بھٹو بظور وزیر خارجہ جنرل ایوب خان کے روبرو انتہائی آداب کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیاکرتے تھے. جنرل ضیا الحق اور ذولفقار علی بھٹو ایک ہی صفحہ پر اتنے قریب دکھائی دیتے تھے پتہ ہی نہیں چلنے دیت...
Image
چلو ہم مان لیتے ہیں۔ ۔  جولائی 2018 کے عام انتخابات کی گرد ہے کہ بیٹھ کر ہی نہیں دے رہی. قومی اسمبلی کے پہلے ہی اجلاس میں حزب اختلاف نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں بھرپور حصہ لیا اور گاؤں میں بیاہ کر جانے والی شہری دلہن کی طرح حزب اقتدار کو جتا بھی دیا تھا کہ ہم سے چھیڑ چھاڑ کی تو اچھا نہیں ہوگا. تحریک انصاف کی حکومت کا تیسرا سال اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے کامیابیاں غیر محسوس او ر ناکامیوں کے انبار لگتے جا رہے ہیں. عمران کی شخصیت کے سحر اور بقول پیپلز پارٹی رہنما اعتزاز احسن دل کو چیرتی ہوئی عمران خان کی تقریروں اور دعووں سے متاثر پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت نے خود بھی ووٹ تحریک انصاف کو دیا اور برسوں سے مختلف سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے والے اپنے والدین کو بھی تحریک انصاف کو ووٹ دینے پر مجبور کیا. کیوں ہوا اور کیسے ہوا کی گردان سے ہٹ کر بات کریں تو عمران خان نے تین دہائیوں سے ملک پر راج کرنے والی دو بڑی جماعتوں کے خاموش اتحاد کو ہلا کر رکھ دیا. ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ اکیاون ہزار ووٹ لے کر تحریک انصاف سب سے بڑی جماعت بن کر تو ضرور ابھری لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرم...
October 24, 2020 عمران خان کو امیر عبداللہ بنانے کی تیاریاں  اللہ مملکت خداداد پر رحم فرمائے. پاکستان کی پر پیچ سیاسی تاریخ ایک نئے موڑ کے قریب پہنچتی دکھائی دے رہی ہے.ابھی سال بھر پہلے میاں نواز شریف کی حکمرانی کا سورج عروج پر تھا چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے اقتدار پر مسلم لیگ(ن) کی گرفت ناقابل شکست حد تک مضبوط تھی. ملکی معاملات ایوان اقتدار کے مکینوں کی منشا کے عین مطابق کبھی موٹر وے تو کبھی جی ٹی روڈ پر دوڑ رہے تھے. میاں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں نے نجی محفلوں میں ایک مرتبہ پھر1999 کی طرح میاں محمد نواز شریف کے مزید پچیس سالہ اقتدار کی ترجیحات کے تذکرے شروع کر دئیے تھے. پیپلز پارٹی سندھ کی ملکیت پر خوش تھی تو ایم کیو ایم 12 مئی اور بلدیہ فیکٹری سانحے کے الزامات سے بچ نکلنے پر صابر شاکر تھی. بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کی باریاں لگ رہی تھیں. مولانا فضل الرحمن پورے طمطراق کے ساتھ کشمیر کمیٹی کے سنگھاسن پر براجمان تھے تو اسفند یار ولی پہلی بیوی کی طرح خبیر پختونخوا کے عوام کی تحریک انصاف کے ساتھ نئی محبت کو کوس رہے تھے محمود اچکزئی اور جامعہ کراچی کے ہمارے پرانے ...
عمران خان کو امیر عبداللہ بنانے کی تیاریاں  اللہ مملکت خداداد پر رحم فرمائے. پاکستان کی پر پیچ سیاسی تاریخ ایک نئے موڑ کے قریب پہنچتی دکھائی دے رہی ہے.ابھی سال بھر پہلے میاں نواز شریف کی حکمرانی کا سورج عروج پر تھا چاروں صوبوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے اقتدار پر مسلم لیگ(ن) کی گرفت ناقابل شکست حد تک مضبوط تھی. ملکی معاملات ایوان اقتدار کے مکینوں کی منشا کے عین مطابق کبھی موٹر وے تو کبھی جی ٹی روڈ پر دوڑ رہے تھے. میاں نواز شریف کے قریبی ساتھیوں نے نجی محفلوں میں ایک مرتبہ پھر1999 کی طرح میاں محمد نواز شریف کے مزید پچیس سالہ اقتدار کی ترجیحات کے تذکرے شروع کر دئیے تھے. پیپلز پارٹی سندھ کی ملکیت پر خوش تھی تو ایم کیو ایم 12 مئی اور بلدیہ فیکٹری سانحے کے الزامات سے بچ نکلنے پر صابر شاکر تھی. بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کی باریاں لگ رہی تھیں. مولانا فضل الرحمن پورے طمطراق کے ساتھ کشمیر کمیٹی کے سنگھاسن پر براجمان تھے تو اسفند یار ولی پہلی بیوی کی طرح خبیر پختونخوا کے عوام کی تحریک انصاف کے ساتھ نئی محبت کو کوس رہے تھے محمود اچکزئی اور جامعہ کراچی کے ہمارے پرانے س...
Image
یہاں کچھ اچھا نہیں ہوسکتا.! یہاں سب اچھا ہوگا؟!مسلم لیگ(ن) کے لئے اچھی خبر؟ پاکستان آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 10 اکتوبر کو ملٹری اکیڈمی کاکول میں نئے پاس آؤٹ ہونے والے نوجوان افسروں سے خطاب کرتے ہوئے ان لوگوں کو حوصلہ دیا جو موجودہ سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال سے اس درجہ مایوس ہوچکے ہیں کہ ہر واقعے ہر سانحے اور مہنگائی کی ہر نئی لہر کے بعد ان کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا ہے کہ یہاں کچھ اچھا نہیں ہوسکتا. بظاہر توآرمی چیف نے قوم کے مایوس عناصر کی ہمت بندھانے کی کوشش کی لیکن دراصل ان کے خطاب میں ایک خاص پیغام چھپا تھا جسے پڑھنا انٹیلیجنس کی زبان میں حقیقی ذہانت کہلاتا ہے. پاکستان کے سب سے حساس ادارے کی سروس کے آغاز میں دوران ٹریننگ ہمارے ایک انسٹرکٹر ایک جملے پر بہت زور دیا کرتے تھےIn between the lines جس کا مفہوم یہ تھا کہ کسی اخبار، مجلے یا شخصیت کے دھواں دار بیان، مضمون یا خبر کے اندر چھپی خبر تک پہنچنا ایک قابل انٹیلیجنس افسر کی نشانی ہوتی ہے. سینئر افسران کہا کرتے ہیں کہ حساس ادارے کی تربیت برتاؤ اور اساتذہ کبھی زندگی کے کینوس سے محو نہیں ہوتے سو جیسے ہی آرمی چی...