قوم کی دم توڑتی دکھتی رگ....

دکھتی رگ

کاروبار کی دنیا کا ایک دلچسپ اصول ہے۔ کاروباری شخص ہونے کے ناطے انہیں اکثر اپنے ادارے کی کمزوریاں بھی معلوم ہوتی ہیں اور ان "Leakages" کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو وقتاً فوقتاً منافع کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کون سے افراد ان خامیوں کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود اگر مجموعی نظام چل رہا ہو، ادارہ منافع میں ہو اور وہی لوگ اپنی صلاحیت سے کاروبار کو آگے بڑھانے میں بھی کردار ادا کر رہے ہوں تو ہر مسئلے پر ہتھوڑا نہیں چلایا جاتا۔ کیونکہ بعض اوقات نظام کو بچانے کے لیے تدریج ، برداشت اور توازن زیادہ ضروری ہوتے ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوگ خوشی سے ٹیکس دیتے ہیں، اس لیے نہیں کہ انہیں ٹیکس پسند ہے بلکہ اس لیے کہ انہیں اس کے بدلے سہولتیں ملتی ہیں۔ صاف پانی، بلا تعطل بجلی، معیاری سرکاری تعلیم، جدید سرکاری اسپتال، محفوظ ماحول، بہترین سڑکیں، مؤثر ٹرانسپورٹ اور قانون کی یکساں حکمرانی ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ان معاشروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت یا بنیادی سہولیات کا فقدان عام گفتگو کا موضوع ہی نہیں بنتا۔

بدقسمتی سے پاکستان میں صورت حال مختلف ہے۔

یہاں ایک شہری ٹیکس بھی دیتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے اپنے بچوں کی تعلیم نجی اداروں سے خریدنی پڑتی ہے، علاج پرائیویٹ اسپتالوں سے کروانا پڑتا ہے، اپنی سیکیورٹی کے انتظامات خود کرنے پڑتے ہیں، بجلی کے متبادل ذرائع خود لگانے پڑتے ہیں، پانی کا بندوبست بھی اپنی جیب سے کرنا پڑتا ہے۔ گویا بنیادی سہولتیں بھی آؤٹ سورس کرنا پڑتی ہیں۔

اس کے باوجود بھی اگر ریاست ترقی یافتہ ممالک جیسا سخت ٹیکس نظام نافذ کرنا چاہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں معاشروں کے حالات بھی یکساں ہیں؟

جہاں روزگار کے مواقع محدود ہوں، کاروبار کرنا پہلے ہی مشکل ہو، سرمایہ کاری کم ہو رہی ہو، پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہو اور معاشی غیر یقینی کیفیت غالب ہو، وہاں کاروباری طبقے پر مسلسل دباؤ بڑھانا معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں نجی شعبہ صرف کاروبار نہیں کرتا بلکہ لاکھوں خاندانوں کے لیے روزگار پیدا کرتا ہے۔ ہر کامیاب کاروبار کے سبب سے درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں گھروں کا چولہا جلتا ہے۔ اگر کاروبار سانس نہیں لے سکے گا تو معیشت بھی سانس نہیں لے سکے گی۔افسوس کی بات یہ ہے کہ کاروباری حلقوں میں یہ احساس بڑھتا جا رہا ہے کہ بعض اوقات معاملات کو منطقی دلائل کے بجائے اختیارات کے استعمال سے دیکھاجاتا ہے۔اس تاثر نے کاروباری برادری میں بے چینی اوراضطراب کو جنم دیا ہے جو کسی بھی معیشت کے لیے خوش آئند نہیں۔

ہم اپنی افواج کو سلام پیش کرتے ہیں جو ہماری جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرتی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کاروباری طبقہ اس ملک کی معاشی فوج ہے جو قومی معیشت کی سرحدوں کا دفاع کرتی ہے، روزگار پیدا کرتی ہے، سرمایہ کاری لاتی ہے اور قومی خزانے میں ٹیکس بھی جمع کراتی ہے۔

اگر یہی طبقہ غیر ضروری دباؤ، پیچیدہ قوانین اور عدم اعتماد کی فضا میں گھِر جائے گا تو اس کا اثر صرف چند کاروباری افراد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری قومی معیشت اس کی قیمت ادا کرے گی۔

وقت آ گیا ہے کہ اربابِ اختیار ٹیکس وصولی اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن پیدا کریں۔ ایسا ماحول بنایا جائے جہاں ٹیکس دہندہ خود کو مجرم نہیں بلکہ قومی ترقی کا شراکت دار محسوس کرے۔ کیونکہ مضبوط معیشت صرف قوانین سے نہیں، بلکہ اعتماد، انصاف اور شراکت داری سے بنتی ہے۔

ایک خوشحال کاروباری طبقہ ہی ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔






تحریر: سنگی راشد محمود اعوان ھزارہ بزنس فورم

Comments

Popular posts from this blog

زمینی گدھ پلی بارگین کر کے اپنے مال واسباب میں موجود اضافی بوجھ بیوی، بیوی، سالے،داماد، بہنوئی، بھانجے بھتیجے میں تقسیم کرکے آسمانی گدھ کی طرح دوبارہ سے اسی کام میں جت جاتے ہیں.

جامعہ کراچی مر رہی ہے! حکومت آرام سے مرنے دو کی پالیسی پر گامزن ہے.........( آخری قسط)

جامعہ کراچی کی ایک یادگار بیٹھک