کامریڈ زیب النسا بخاری۔۔۔ صرف ایک خاتون نہیں، ایک تاریخ تھی۔..
... انسان تو ہر دور میں انمول رہا ہے
یوں تو پورا سندھ اولیاء کرام، صوفی بزرگوں، سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات کی سرزمین ہے۔ لیکن لاڑکانہ کو دیگر شہروں کے مقابلے میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ لاڑکانہ نہ صرف صوبہ سندھ کا بلکہ پاکستان کا بڑا سیاسی اور تاریخی مرکز رہا ہے اور آج بھی ہے۔ لاڑکانہ کو مردم شناس ہونے کے ساتھ ساتھ مردم خیزی کے لحاظ سے بھی بڑا درجہ حاصل ہے۔ اولیاءوصوفیا کرام نے سرزمین سندھ سے محبت کی اور اس کے زخموں پر محبت کا مرہم رکھا, قرب الہٰی اور عشق رسول ﷺ کا لافانی پیغام دیا تاکہ سندھ کے باسیوں میں عزم و ہمت کی امید پیداہو۔اسی عزم و ہمت سے بھرپور امید کی پیکرکامریڈ زیب النساء بخاری بھی سندھ دھرتی کا امر ہو جانے والا کردار تھیں۔ وہ کہتی تھیں کہ انہیں سندھ سے اس لئے بھی محبت ہے کہ سندھ حق, صداقت,محبت اور خلوص کی سرزمین ہے۔ اس خطے نے لاتعداد بہادر سورما اور وقت کے ولی پیدا کئے ہیں جنھوں نے اپنے قول و فعل اور عملی کردار کے ذریعے انسانیت اور انسان ذات سےمحبت کا پیغام دیا۔
کامریڈ زیب النساء بخاری کی شخصیت ایسی تھی جن سے بہاروں کی سی خوشبو آتی ہے۔جو عظیم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ترقی پسند محنت کش خاتون بھی تھیں۔ جنہیں غریب اور محنت کش عورتوں سے بے انتہا پیار اور محبت تھی۔ انھیں نفرت کسی سے بھی نہ تھی وہ غریبوں اور مسکینوں کا استحصال کرنے والے لوگوں کی سخت مخالف تھیں۔ان کے قول و فعل میں ذرہ برابر تضاد نہ تھا۔ غریبوں اور بیواؤں سے خصوصاً محنت کش خواتین سے محبت کرنا ان کی زندگی کا اولین مقصد ہوتا تھا باالفاظ دیگر محنت کشوں سے عشق ان کی زندگی کا محور تھا۔ کامریڈ زیب النساء بخاری کی زندگی میں خود غرضی، خود پرستی، لالچ اور مصنوعی بناؤ سنگھار کا کوئی عمل دخل نہ تھا وہ ہمیشہ سادگی کو پسند کرتی تھیں۔
کامریڈ زیب النساء بخاری کی شخصیت انقلابی تحریکوں اور تنظیموں میں عورتوں کی شمولیت کے لئے عملی جدوجہد کرنے والی ان پہلی خواتین میں سے ایک ہے جن کے لئے جدوجہد ایک مقدس منزل کی حیثیت رکھتی تھی۔ جنہوں نے قوم اور آنے والی نسل کے لئے ایک ایسی شمع روشن کی جو آج کی نسل لئے مشعل راہ ہے، جس کی تگ و دو میں انہوں نے بے انتہاتکالیف برداشت کیں۔ اپنی رات کی نیندیں اور دن کا چین قربان کرکے محنت و مزدوری کی اور اپنی تنظیم (پارٹی) کو خونِ جگر دے کر اور محنت کی کمائی سے متحد اور متحرک کیا۔ ورکرز کو اپنی اولاد کی طرح پیارکیا، مصیبتوں اور تکالیف سے بچایا پھر انھیں حوصلہ دیا اور آگے قدم بڑھانے کا سبق پڑھایا تاکہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہواور جھوٹ و فریب سے ہمیشہ نفرت کریں۔
کامریڈ زیب النساء بخاری کو یہ بھی اعزاز حاصل تھا کہ انھوں نے لاڑکانہ جیسے شہر میں سماجی شعبے کے ساتھ عورتوں کی فلاح و بہبود کے لئے انتھک جدوجہد کی اور مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے لئے عورتوں کے دلوں میں ہمت اور جسارت بیدار کی تاکہ وہ مردوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں، اس سلسلے میں کامریڈ زیب النسا بخاری نے مثالی کردار ادا کیا۔
کامریڈ زیب النسا بخاری پنجتن پاک کو ماننے والی درویش خاتون تھیں اوردین اسلام سے بے حد محبت کرتی تھیں۔ میلاد النبی ﷺ کی محافل میں شرکت کو یقینی بناتی تھیں۔ وہ ایک قلندر صفت شخصیت تھیں۔ ان کے پاس سے کوئی بھی سائل خالی ہاتھ نہ جاتا تھا۔ صدقہ و خیرات کے سلسلے میں فراخ دل تھیں۔ وہ اکثر و بیشتر علامہ ڈاکٹر اقبال کا یہ شعر اپنی اولاد اور تعلق داروں کے گوش گزار کرتی تھیں۔
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
کامریڈ زیب النساء بخاری کو سندھ کی ثقافت و زبان سے بے حد محبت تھی۔ وہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے اشعار کو بے حد پسند کرتی تھیں اور انھیں شاہ عبد الطیف بھٹائی کے کلام کو سننے کا بے انتہا شوق تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ شاہ عبد الطیف بھٹائی کے پیغام کو عام کیا جائے تاکہ لوگوں کو انسانیت سے محبت کا درس مل سکے اور اس کے مفہوم سے روشناس ہوسکیں۔
عظیم قوم پرست رہنم محترم جی ایم سید کامریڈ زیب النساء بخاری کو اپنی ہمشیرہ کی طرح سمجھتے تھے۔ کامریڈ زیب النسا بخاری کی شادی کی پہلی دعوت جناب جی ایم سید صاحب نے حیدر منزل کراچی میں دی تھی۔ جس میں مشہور سیاسی شخصیات و دیگر معزز احباب نے شرکت کی۔ کامریڈ زیب النساء کی اپنے بیٹوں سید مظفر سلطان بخاری،حکیم سید محمد مظہر سلطان بخاری،سید منور سلطان بخاری،سید مکرم سلطان بخاری ، سید کمال الدین بخاری، ڈاکٹر سید زین العابدین بخاری،سید معظم سلطان بخاری اور سید ناصر الدین بخاری کو خصوصی ہدایت تھی کہ کراچی سے لاڑکانہ آتے ہوئے محترم جی ایم سید سے (سن میں) ملاقات کرتے، سیہون شریف میں حضرت لعل شہباز قلندر ؒ کی درگاہ پر حاضری دیتے ہوئے گھر آیا کریں۔ محترم جی ایم سید اکثر اپنی تصنیفات پر قلم سے نشان لگا کر دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ میری بہن کو یعنی کامریڈ زیب النسا (شانتا) بخاری کو پڑھ کر سنانا۔ اسی طرح زیب النسا بخاری بھی سائیں جی ایم سید کی ناسازیئ طبیعت کی وجہ سے کبھی ہسپتال یا کبھی محترم کے گھر آتی جاتی رہتی تھیں۔ کامریڈ سید جمال الدین بخاری کے وصال پر تعزیت کے لئے سائیں جی ایم سید رہائی کے فوراً بعد پہلی بار لاڑکانہ میں بخاری منزل لاڑکانہ تشریف لائے اور کامریڈ زیب النسا بخاری سے ان کے شوھر کی وفات پر تعزیت کی۔
محترمہ کامریڈ زیب النساء (شانتا) بخاری جیسی فرشتہ صفت خاتون اور سرزمین سندھ کی قابل فخر ماں 25جولائی 2014ء بروز جمعتہ المبارک بمطابق 26رمضان المبارک 1435ھ 92سال کی عمر میں اس جہانِ فانی سے کوچ کرکے اپنے خالقِ حقیقی سے جاملیں..
انا للہ و انا الیہ راجعون
آخر میں حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی ؒ کے کلام کا ترجمہ کامریڈ زیب النساء بخاری سے عقیدت کے طورپر پیش خدمت ہے
وہ لوگ جو دل کو زندہ کرنے والے تھے وہ یہاں سے کوچ کرگئے...
آج اوطاقوں میں علم کے طلب گار بات چیت نہیں کرتے...
صاحب دل لوگ اٹھ گئے اور ان کی جگہیں خالی ہیں.
تحریر: سید منور سلطان بخاری

.jpeg)

Comments