سوشل میڈیا کی دنیا ، کانچ کی دنیا

سوشل میڈیا آپ کو شہرت دیتا ہے شناخت دیتا ہے 

ہم اکثر زندگی میں دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنی کامیابی اپنی روزمرہ کے معمولات اور اپنی کامیابیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے عام کرتے ہیں یقیناً یہ اس دور کی ضرورت بھی ہے اور اس کے بغیر رہنا بھی مشکل ہے لیکن اس کے ساتھ ایک حقیقت کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جب آپ اپنی ذات کو عام کرتے ہیں تو آپ خود کو ایک نازک ماحول میں بھی لے جاتے ہیں جہاں آپ کی زندگی کا کوئی بھی واقعہ مستقبل میں آپ کے لیے تکلیف یا پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔سوشل میڈیا آپ کو شہرت دیتا ہے شناخت دیتا ہے لیکن انسان کی فطرت یہ ہے کہ ہر شخص آپ کی کامیابی کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھتا۔









جو لوگ آپ کی جدوجہد اور ابتدائی دور سے آپ کو جانتے ہیں وہ آپ کی کامیابی کو شاید اتنی تیزی سے آگے نہ پھیلائیں لیکن آپ کے خلاف کوئی منفی یا کردار کشی جیسی بات سامنے آئے تو وہ بہت تیزی سے عوام میں مقبول ہو سکتی ہے اسی لیے سوشل میڈیا کا استعمال صرف ایک  تکنیکی علم ہی نہیں بلکہ ایک فن ہے۔

اگر انسان اپنی ذات کو چھاپ بنانا چاہتا ہے تو اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر چیز عام کرنا ضروری نہیں۔اپنی کامیابیاں ضرور دکھائیں لیکن اپنی پوری زندگی نہیں۔اپنی کامیابی ضرور دوسروں کو بتائیں لیکن اپنی ذاتی معلومات کی قیمت پر نہیں۔

اپنے ذاتی تعلقات اپنے خاندان اور اپنی زندگی کے حساس پہلوؤں کو غیر ضروری طور پر عام نہ کریں کیونکہ سوشل میڈیا پر آج کی گئی ایک معمولی سی پوسٹ  بھی کل آپ کی ساکھ کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔

اصل ذاتی شناخت یہ نہیں کہ آپ ہر جگہ نظر آئیں بلکہ یہ ہے کہ جہاں نظر آئیں وہاں اپنی ساکھ چھوڑیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا کانچ کی دنیا ہے یہ آپ کو دنیا کے سامنے شفاف بناتی ہے لیکن اسی شفافیت میں آپ کی کمزوری بھی سب کو نظر آ سکتی ہے۔




سوشل میڈیا کو اپنی زندگی کا ایک حصہ بنائیں اپنی زندگی نہیں۔شہرت حاصل کرنا شاید آسان ہو لیکن ساکھ کو محفوظ رکھنا اصل کامیابی ہے۔













تحریر: سنگی راشد محمود اعوان

Comments

Popular posts from this blog

زمینی گدھ پلی بارگین کر کے اپنے مال واسباب میں موجود اضافی بوجھ بیوی، بیوی، سالے،داماد، بہنوئی، بھانجے بھتیجے میں تقسیم کرکے آسمانی گدھ کی طرح دوبارہ سے اسی کام میں جت جاتے ہیں.

جامعہ کراچی مر رہی ہے! حکومت آرام سے مرنے دو کی پالیسی پر گامزن ہے.........( آخری قسط)

جامعہ کراچی کی ایک یادگار بیٹھک