دوبئی چلو یا دوبئی سے چلو؟

! شاید ایسا ہی ہو 

ایک دوست سے بات ہو رہی تھی کہ کراچی میں صرف ڈی ایچ اے فیز 8 کے پلاٹس کی قیمتوں میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے ، انہوں نے وضاحت دی کہ پہلے یہ سلوگن تھا کہ دبئی چلو لیکن ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے بعد اب نیا نعرہ ہے کہ دبئی سے چلو ! پاکستان اور کئی ممالک سے کالا اورچٹا پیسہ جو دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں پارک ہوا تھا وه ڈوب چکا ہے اب پیسے والوں نے کراچی کا رخ کیا ہے اور پہلا پڑاؤ کراچی کا ڈیفنس ہے 












اپنے ایک اور دوست کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں کہ آج کی جیو پولیٹیکل صورت حال میں خلیج کی بجاۓ پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے ، امریکہ اور یورپ اور دیگر ممالک کی کراچی اور گوادر میں دلچسپی بڑھ گئی ہے ۔۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی ہل چل مچ چکی ہے ، زیادہ صوبے اور بلدیاتی نظام کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔کراچی اور گوادر کو وفاق کے زیر انتظام لانے میں امریکہ کی دلچسپی ہو سکتی ہے ۔۔
آصف زرداری صدر مملكت گو کہ اس سے اتفاق نہیں کرتے لیکن وه اس لئے كمزور ہیں کیونکہ یو اے ای كمزور ہو چکا ہے اور دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے اس نے بھارت اور اسرائیل کو جوائن کر لیا ہے جو پاکستانی مقتدرہ کو ناقابل قبول ہے اس لئے زرداری صاحب اس بار دبئی سے چلو کی پالیسی پر گامزن ہوتے ہوئے لندن تشریف فرما ہیں ۔۔












وه مفاہمت کا راستہ وہاں بیٹھ کر تلاش کریں گے ، پیپلز پارٹی احتجاج کی سیاست نہیں کرے گی ، نیشنل ایکشن پلان کو نئے سربراه جنرل فیصل نصیر متحرک اور فعال بنانے کیلئے سرگرم ہونے والے ہیں اس لئے  سندھ حکومت کے وزرا  احتیاط سے کام لیں گے ۔
مولانا فضل الرحمن حکومتی اتحاد کے کہنے پر گرج پڑے تھے اب برسیں گے نہیں اور نئی آئینی ترمیم کی حمایت کریں گے ۔۔
تحریک انصاف کی قسمت ایران جنگ کے نتائج نے بدل دی ہے ۔۔
عدالتیں انصاف کرنا شروع ہو جائیں گی ۔سندھ کے کامیاب دورے کے بعد 27 ستمبر کا جلسہ پاور شو ہو گا اور سابق کپتانوں کی مہم کامیاب ہو گی قیدی نمبر 804 کا بہتر علاج شروع ہو جاۓ گا ۔
تركی سعودیہ اور پاکستان دفاعی معاہدہ نئے جیو پولیٹیکل آرڈر کا حصہ ہے ۔پاکستان کے سیکرٹری جنرل بن جانےسے صورت حال مختلف ہو جاۓ گی ۔۔
ایران نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ کے نومبر کے انتخاب تک ٹرمپ سے معاہدہ نہیں کرنا اس کے بعد ایران بھی دفاعی معاہدہ کا حصہ بننے کے لئے تیار ہو گا ۔
چین امریکہ کی کھل کر مخالفت نہیں کرے گا لیکن اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے ۔۔
مسلم لیگ ن  کے سربراہ میاں نواز شریف قابل قبول نہیں رہے ، شہباز شریف اور مریم شریف سسٹم کا حصہ رہیں گے دونوں نئے نظام میں ایڈجسٹ ہونا چاہتے ہیں ۔۔
یوں لگتا ہے کہ یہ ایڈجسٹمنٹ آئندہ الیکشن تک برقرار رہے گی ۔

تحریر: مبشر میر

Comments

Popular posts from this blog

زمینی گدھ پلی بارگین کر کے اپنے مال واسباب میں موجود اضافی بوجھ بیوی، بیوی، سالے،داماد، بہنوئی، بھانجے بھتیجے میں تقسیم کرکے آسمانی گدھ کی طرح دوبارہ سے اسی کام میں جت جاتے ہیں.

جامعہ کراچی مر رہی ہے! حکومت آرام سے مرنے دو کی پالیسی پر گامزن ہے.........( آخری قسط)

تعلیم کا جنازہ!جامعہ کراچی میں سب کچھ بیچا جا رہا ہے سوائے کرسیوں کے.......(قسط اول)