سندھ کے گدھ (Vultures) گدھ ! جسے فطرت نے زمین کی صفائی کے لئے مرکوز کیا ہے صدیوں سے زمین کو مردہ جانوروں کے زہریلے مواد سے پاک کرنے کا فریضہ انجام دے رہے تھے.حکمرانی کی جبلت لئے انسانوں کی ناعاقبت اندیشی کی بھینٹ چڑھنے لگے اور خطے میں دستیاب چار کروڑ سے زائد گدھ گھٹ کر چند ہزار رہ گئے ہیں. جس کا سہرا زمین پر بسنے والے ان اعلی دماغوں کے سر جاتا ہے جن کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کتوں کو زہر دے کر ہلاک کرنے کا طریقہ اپنایا گیا لیکن کرپشن زدہ سوچ نے مردہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے مختص رقم سے کرپشن کے پلازے تعمیر کرنے شروع کردئیے اور مردہ کتوں کو کھلے آسمان تلے گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ گئے.تب قدرت کے کاموں میں مداخلت کی سزا کا عمل یوں شروع ہوا کہ ملک بھر میں مردہ کتوں کی آلائشیں اردگرد کی زرعی زمینوں اور شہروں کے اطراف گندے نالوں میں ناجائز کاشت کی گئی فصلوں میں حلول ہونے ہونے لگیں. کروڑوں کتوں کا زہریلا مردار گوشت کھاتے ہی گدھ بھی کتوں کے مارنے کے لئے استعمال ہونے والے زہر کا شکار ہونے لگے اور چند ہی سالوں میں چار کروڑ سے زائد گدھ زہریلے کتوں کا مردار گوشت کھانے کے س...
جامعہ کراچی کے وقار، علمی برتری کو تباہ کرنے میں رہی سہی کسر 18 ویں آئینی ترمیم نے پوری کردی ایک طرف تعلیم کے لئے وفاقی بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا تو دوسری طرف سندھ حکومت کا یہ فرمان کہ جامعہ کراچی اب ہماری ذمہ داری ہے اس کھینچا تانی نے وفاق اور صوبے کے درمیان عجیب مخاصمت پیدا کردی ہے.موجودہ حالات میں جبکہ مہنگائی کا سورج سوا نیزے تک پہنچ چکا ہے اور جامعہ کے لئے فنڈنگ2018 والی ہی چل رہی ہے جس کی وجہ سے جامعہ کراچی شدید مالی بحران کے گرداب میں پھنس چکی ہے. فیسوں میں بھاری اضافے کے باوجود کمترین معیار تعلیم نے طالب علموں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیوں نہ وہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بہتر تعلیمی معیار سے استفادہ کردیں۔ جامعہ کراچی کا ٹرانسپورٹ نظام کبھی بھی عالمی معیار کا نہیں رہا لیکن چار دہائی پہلے کا ٹرانسپورٹ کا نظام جامعہ کراچی کے طالب علموں کے لئے سہانا خواب بن کر رہ گیا ہے. 80 کی دہائی تک جامعہ کراچی کی بسیں کراچی کے ہر کونے کھدرے تک پہنچتی تھیں طلبہ و طالبات کے والدین کی جیبوں پر بیس پیسے سے زیادہ کا کبھی بوجھ نہیں پڑتا تھا اور جامعہ کے طالب علم بغیر کسی تردد کے جا...
بجٹ ختم، بلڈنگز خستہ ، مستقبل تباہ ! جامعہ کراچی الارم بج رہا ہے پاکستان کی سب سے بڑی اور معروف جامعہ کراچی دنیا بھر میں جانی پہچانی جاتی ہے. اکہتر سالوں سے جامعہ کراچی پاکستان کی دوسری بڑی جامعہ کی حیثیت سے علمی تحقیقی اور تدریسی خدمات انجام دے رہی ہے. عالمی سطح پر بھی جامعہ کراچی کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے لیکن گذشتہ دو دہائیوں میں اس جامعہ کا معیار مسلسل زوال کا شکار ہے.2002 کی عالمی درجہ بندی میں جامعہ کراچی Higher Education Commission کے تحت نمایاں جامعات میں شمار ہوتی تھی مگر آج صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے. اساتذہ کی کمی ، ابتر سیکیورٹی، ٹرانسپورٹ کے مسائل، بوسیدہ انفرا اسٹرکچر، ناقص دیکھ بھال اور سیاسی پشت پناہی کے سبب غنڈہ گردی، اساتذہ کا غیر سنجیدہ رویہ طلبا و طالبات میں احساس ذمے داری کے فقدان کا باعث بن رہا ہے. دیوالیہ، بے بس اور بے ایمان انتظامیہ نے جامعہ کراچی کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے. دوسری طرف شہر کے بلڈرز، اسٹیٹ ایجنٹس اور معروف لینڈ گریبرز نے کراچی میں علم کی فروخت کی چھوٹی بڑی من...
Comments