یوں تو ہر مقام، ہر جگہ کا اپنا ایک رنگ، ایک مزاج اور ایک احساس ہوتا ہے لیکن کچھ مقام ہماری یادوں سے جڑے ہوتے ہیں جبکہ کچھ جگہیں ہماری سوچ اور جذبات کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہیں. یہ کہنا غلط نا ہوگا کہ ہر مقام ہر جگہ کا اپنا سحر ہوتا ہے ایسا ہی ایک سحر جامعہ کراچی ہے جس میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نہ صرف علم کی پیاس بجھاتے ہیں بلکہ دوستیوں کو پروان چڑھانے کے لیے مجالس کا اہتمام بھی کرتے ہیں،جامعہ سے قربت کو زندہ رکھنے کے لیے مختلف اوقات میں بیٹھکیں منعقد کرتے ہیں ایسی ہی ایک بیٹھک جامعہ کراچی کے شعبہ نباتیات کے سابق طلبہ و طالبات نے اتوار 13 جولائی 2025 کو شعبہ نباتیات کے اساتذہ کانفرنس روم میں سجائی. بوڑھی روحوں کا جوان امنگوں سے، عمر رسیدہ جسموں کا ولولہ انگیز جذبوں سے، تھکے ماندے ریٹائرڈ انسانوں کا امید افزا خواہشوں سے میل قابل دید تھا. حیات کے سفر کی آخری منزل کے قریب پہنچی روحوں میں ایک مرتبہ پھر جینے کی امنگ جاگی،بڑھاپے کی دہلیز پر خوشیوں کے ترانے بجے اور ماضی کا شرارتی چلبلا سا لڑکپن ہر چہرے پر نمایاں تھا. شعبہ نباتیات کی اس یادگار بیٹھک میں 70، 80 اور 90 ...
سندھ کے گدھ (Vultures) گدھ ! جسے فطرت نے زمین کی صفائی کے لئے مرکوز کیا ہے صدیوں سے زمین کو مردہ جانوروں کے زہریلے مواد سے پاک کرنے کا فریضہ انجام دے رہے تھے.حکمرانی کی جبلت لئے انسانوں کی ناعاقبت اندیشی کی بھینٹ چڑھنے لگے اور خطے میں دستیاب چار کروڑ سے زائد گدھ گھٹ کر چند ہزار رہ گئے ہیں. جس کا سہرا زمین پر بسنے والے ان اعلی دماغوں کے سر جاتا ہے جن کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کتوں کو زہر دے کر ہلاک کرنے کا طریقہ اپنایا گیا لیکن کرپشن زدہ سوچ نے مردہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے مختص رقم سے کرپشن کے پلازے تعمیر کرنے شروع کردئیے اور مردہ کتوں کو کھلے آسمان تلے گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ گئے.تب قدرت کے کاموں میں مداخلت کی سزا کا عمل یوں شروع ہوا کہ ملک بھر میں مردہ کتوں کی آلائشیں اردگرد کی زرعی زمینوں اور شہروں کے اطراف گندے نالوں میں ناجائز کاشت کی گئی فصلوں میں حلول ہونے ہونے لگیں. کروڑوں کتوں کا زہریلا مردار گوشت کھاتے ہی گدھ بھی کتوں کے مارنے کے لئے استعمال ہونے والے زہر کا شکار ہونے لگے اور چند ہی سالوں میں چار کروڑ سے زائد گدھ زہریلے کتوں کا مردار گوشت کھانے کے س...
جامعہ کراچی کے وقار، علمی برتری کو تباہ کرنے میں رہی سہی کسر 18 ویں آئینی ترمیم نے پوری کردی ایک طرف تعلیم کے لئے وفاقی بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا تو دوسری طرف سندھ حکومت کا یہ فرمان کہ جامعہ کراچی اب ہماری ذمہ داری ہے اس کھینچا تانی نے وفاق اور صوبے کے درمیان عجیب مخاصمت پیدا کردی ہے.موجودہ حالات میں جبکہ مہنگائی کا سورج سوا نیزے تک پہنچ چکا ہے اور جامعہ کے لئے فنڈنگ2018 والی ہی چل رہی ہے جس کی وجہ سے جامعہ کراچی شدید مالی بحران کے گرداب میں پھنس چکی ہے. فیسوں میں بھاری اضافے کے باوجود کمترین معیار تعلیم نے طالب علموں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیوں نہ وہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بہتر تعلیمی معیار سے استفادہ کردیں۔ جامعہ کراچی کا ٹرانسپورٹ نظام کبھی بھی عالمی معیار کا نہیں رہا لیکن چار دہائی پہلے کا ٹرانسپورٹ کا نظام جامعہ کراچی کے طالب علموں کے لئے سہانا خواب بن کر رہ گیا ہے. 80 کی دہائی تک جامعہ کراچی کی بسیں کراچی کے ہر کونے کھدرے تک پہنچتی تھیں طلبہ و طالبات کے والدین کی جیبوں پر بیس پیسے سے زیادہ کا کبھی بوجھ نہیں پڑتا تھا اور جامعہ کے طالب علم بغیر کسی تردد کے جا...
Comments