Posts

دوبئی چلو یا دوبئی سے چلو؟

Image
! شاید ایسا ہی ہو  ایک دوست سے بات ہو رہی تھی کہ کراچی میں صرف ڈی ایچ اے فیز 8 کے پلاٹس کی قیمتوں میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے ، انہوں نے وضاحت دی کہ پہلے یہ سلوگن تھا کہ دبئی چلو لیکن ایران اسرائیل امریکہ جنگ کے بعد اب نیا نعرہ ہے کہ دبئی سے چلو ! پاکستان اور کئی ممالک سے کالا اورچٹا پیسہ جو دبئی کی رئیل اسٹیٹ میں پارک ہوا تھا وه ڈوب چکا ہے اب پیسے والوں نے کراچی کا رخ کیا ہے اور پہلا پڑاؤ کراچی کا ڈیفنس ہے  اپنے ایک اور دوست کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں کہ آج کی جیو پولیٹیکل صورت حال میں خلیج کی بجاۓ پاکستان کی اہمیت بڑھ گئی ہے ، امریکہ اور یورپ اور دیگر ممالک کی کراچی اور گوادر میں دلچسپی بڑھ گئی ہے ۔۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاسی ہل چل مچ چکی ہے ، زیادہ صوبے اور بلدیاتی نظام کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔کراچی اور گوادر کو وفاق کے زیر انتظام لانے میں امریکہ کی دلچسپی ہو سکتی ہے ۔۔ آصف زرداری صدر مملكت گو کہ اس سے اتفاق نہیں کرتے لیکن وه اس لئے كمزور ہیں کیونکہ یو اے ای كمزور ہو چکا ہے اور دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے اس نے بھارت اور اسرائیل کو جوائن کر لیا ہے جو پاکستانی مقت...

چھوٹے چھوٹے فیلڈ مارشل

Image
 چھوٹے چھوٹے فیلڈ مارشل فیلڈ مارشل صاحب سے درخواست ہے کہ ملک کے کونے کھدروں میں موجود چھوٹے چھوٹے فیلڈ مارشلز کے خاتمے پر توجہ دیں بصورت دیگر یہ چھوٹے فیلڈ مارشل آپ کے اقتدار کے لئے بارودی سرنگیں بن جائیں گے۔۔۔۔۔ پڑھیے میرابلاگ ۔۔ چھوٹے چھوٹے فیلڈ مارشل۔ https://politics47.blogspot.com/

سوشل میڈیا کی دنیا ، کانچ کی دنیا

Image
سوشل میڈیا آپ کو شہرت دیتا ہے شناخت دیتا ہے  ہم اکثر زندگی میں دیکھتے ہیں کہ لوگ اپنی کامیابی اپنی روزمرہ کے معمولات اور اپنی کامیابیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے عام کرتے ہیں یقیناً یہ اس دور کی ضرورت بھی ہے اور اس کے بغیر رہنا بھی مشکل ہے لیکن اس کے ساتھ ایک حقیقت کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جب آپ اپنی ذات کو عام کرتے ہیں تو آپ خود کو ایک نازک ماحول میں بھی لے جاتے ہیں جہاں آپ کی زندگی کا کوئی بھی واقعہ مستقبل میں آپ کے لیے تکلیف یا پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔سوشل میڈیا آپ کو شہرت دیتا ہے شناخت دیتا ہے لیکن انسان کی فطرت یہ ہے کہ ہر شخص آپ کی کامیابی کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھتا۔ جو لوگ آپ کی جدوجہد اور ابتدائی دور سے آپ کو جانتے ہیں وہ آپ کی کامیابی کو شاید اتنی تیزی سے آگے نہ پھیلائیں لیکن آپ کے خلاف کوئی منفی یا کردار کشی جیسی بات سامنے آئے تو وہ بہت تیزی سے عوام میں مقبول ہو سکتی ہے اسی لیے سوشل میڈیا کا استعمال صرف ایک  تکنیکی علم ہی نہیں بلکہ ایک فن ہے۔ اگر انسان اپنی ذات کو چھاپ بنانا چاہتا ہے تو اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر چیز عام کرنا ضروری نہیں۔اپنی کامیابیاں ضرور دکھائیں ل...

کامریڈ زیب النسا بخاری۔۔۔ صرف ایک خاتون نہیں، ایک تاریخ تھی۔..

Image
                                                                                       ... انسان تو ہر دور میں انمول رہا ہے           یوں تو پورا سندھ اولیاء کرام، صوفی بزرگوں، سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات کی سرزمین ہے۔ لیکن لاڑکانہ کو دیگر شہروں کے مقابلے میں ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ لاڑکانہ نہ صرف صوبہ سندھ کا بلکہ پاکستان کا بڑا سیاسی اور تاریخی مرکز رہا ہے اور آج بھی ہے۔ لاڑکانہ کو مردم شناس ہونے کے ساتھ ساتھ مردم خیزی کے لحاظ سے بھی بڑا درجہ حاصل ہے۔ اولیاءوصوفیا کرام نے سرزمین سندھ سے محبت کی اور اس کے زخموں پر محبت کا مرہم رکھا, قرب الہٰی اور عشق رسول ﷺ کا لافانی پیغام دیا تاکہ سندھ کے باسیوں میں عزم و ہمت کی امید پیداہو۔اسی عزم و ہمت سے بھرپور امید کی پیکرکامریڈ زیب النساء بخاری بھی سندھ دھرت...

قوم کی دم توڑتی دکھتی رگ....

Image
دکھتی رگ کاروبار کی دنیا کا ایک دلچسپ اصول ہے۔ کاروباری شخص ہونے کے ناطے انہیں اکثر اپنے ادارے کی کمزوریاں  بھی معلوم ہوتی ہیں اور ان "Leakages" کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو وقتاً فوقتاً منافع کو متاثر کرتی رہتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کون سے افراد ان خامیوں کا حصہ ہیں۔ اس کے باوجود اگر مجموعی نظام چل رہا ہو، ادارہ منافع میں ہو اور وہی لوگ اپنی صلاحیت سے کاروبار کو آگے بڑھانے میں بھی کردار ادا کر رہے ہوں تو ہر مسئلے پر ہتھوڑا نہیں چلایا جاتا۔ کیونکہ بعض اوقات نظام کو بچانے کے لیے تدریج ، برداشت اور توازن زیادہ ضروری ہوتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں لوگ خوشی سے ٹیکس دیتے ہیں، اس لیے نہیں کہ انہیں ٹیکس پسند ہے بلکہ اس لیے کہ انہیں اس کے بدلے سہولتیں ملتی ہیں۔ صاف پانی، بلا تعطل بجلی، معیاری سرکاری تعلیم، جدید سرکاری اسپتال، محفوظ ماحول، بہترین سڑکیں، مؤثر ٹرانسپورٹ اور قانون کی یکساں حکمرانی ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ان معاشروں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، پانی کی قلت یا بنیادی سہولیات کا فقدان عام گفتگو کا موضوع ہی نہیں بنتا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صورت حال مختل...

جامعہ کراچی مر رہی ہے! حکومت آرام سے مرنے دو کی پالیسی پر گامزن ہے.........( آخری قسط)

Image
  جامعہ کراچی کے وقار، علمی برتری کو تباہ کرنے میں رہی سہی کسر  18 ویں آئینی ترمیم نے پوری کردی ایک طرف تعلیم کے لئے وفاقی بجٹ میں اضافہ نہیں ہوا تو دوسری طرف سندھ حکومت کا یہ فرمان کہ جامعہ کراچی اب ہماری ذمہ داری ہے اس کھینچا تانی نے وفاق اور صوبے کے درمیان عجیب مخاصمت پیدا کردی ہے.موجودہ حالات میں جبکہ مہنگائی کا سورج سوا نیزے تک پہنچ چکا ہے اور جامعہ کے لئے فنڈنگ2018 والی ہی چل رہی ہے جس کی وجہ سے جامعہ کراچی شدید مالی بحران کے گرداب میں پھنس چکی ہے. فیسوں میں بھاری اضافے کے باوجود کمترین معیار تعلیم نے طالب علموں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیوں نہ وہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے بہتر تعلیمی معیار سے استفادہ کردیں۔ جامعہ کراچی کا ٹرانسپورٹ نظام کبھی بھی عالمی معیار کا نہیں رہا لیکن چار دہائی پہلے کا ٹرانسپورٹ کا نظام جامعہ کراچی کے طالب علموں کے لئے سہانا خواب بن کر رہ گیا ہے. 80 کی دہائی تک جامعہ کراچی کی بسیں کراچی کے ہر کونے کھدرے تک پہنچتی تھیں طلبہ و طالبات کے والدین کی جیبوں پر بیس پیسے سے زیادہ کا کبھی بوجھ نہیں پڑتا تھا اور جامعہ کے طالب علم بغیر کسی تردد کے جا...

تعلیم کا جنازہ!جامعہ کراچی میں سب کچھ بیچا جا رہا ہے سوائے کرسیوں کے.......(قسط اول)

Image
بجٹ ختم،  بلڈنگز خستہ ، مستقبل تباہ !  جامعہ کراچی الارم بج رہا ہے پاکستان کی سب سے بڑی  اور معروف جامعہ کراچی دنیا بھر میں جانی پہچانی جاتی ہے.  اکہتر سالوں سے جامعہ کراچی پاکستان کی دوسری بڑی جامعہ کی حیثیت سے علمی تحقیقی اور تدریسی خدمات انجام دے رہی ہے. عالمی سطح پر بھی جامعہ کراچی کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے لیکن گذشتہ دو دہائیوں میں اس جامعہ کا معیار مسلسل زوال کا شکار ہے.2002 کی عالمی درجہ بندی میں جامعہ کراچی Higher Education Commission کے تحت  نمایاں جامعات میں شمار ہوتی تھی مگر آج صورتحال یکسر مختلف ہو چکی ہے.  اساتذہ کی کمی ،  ابتر سیکیورٹی،  ٹرانسپورٹ کے مسائل،  بوسیدہ انفرا اسٹرکچر،  ناقص دیکھ بھال اور سیاسی پشت پناہی کے سبب غنڈہ گردی،  اساتذہ کا غیر سنجیدہ رویہ طلبا و طالبات میں احساس ذمے داری کے فقدان کا باعث بن رہا ہے. دیوالیہ،  بے بس اور بے ایمان انتظامیہ نے جامعہ کراچی کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے.  دوسری طرف شہر کے بلڈرز، اسٹیٹ ایجنٹس اور معروف لینڈ گریبرز نے کراچی میں علم کی فروخت کی چھوٹی بڑی من...

U.S.-Iran Rivalry in the Shadow of China's Rise

Image
America's partnership with the GCC The strategic rivalry between the United States and Iran represents one of the most enduring and volatile fault lines in the Middle East. At its core, the confrontation centers on competing visions for regional order, control of energy resources, and influence over critical maritime chokepoints. For Washington, Iran’s aspirations for regional primacy and its resistance to U.S. military presence threaten longstanding alliances and the free flow of energy. For Tehran, American sanctions, military deployments, and support for regional partners constitute an effort to contain its legitimate influence as a major Persian Gulf power. This bilateral rivalry has deep historical roots, intensified since the 1979 Iranian Revolution. Today, it manifests in proxy conflicts across Iraq, Syria, Lebanon, and Yemen, as well as in diplomatic maneuvering over Iran’s nuclear program. The United States maintains a robust network of security partnerships with Gulf Co...

ایران امریکہ تنازع کا حل

Image
دنیا کی سیاست ہمیشہ مفادات ، طاقت اور بہترین حکمت عملی کے گرد گھومتی ہے ۔ بعض اوقات بڑے ممالک اپنے فیصلوں میں اس حد تک پراعتماد ہو جاتے ہیں کہ وہ دوسرے فریق کے ردعمل کو کم سمجھ لیتے ہیں لیکن جب عملی میدان میں حالات سامنے آتے ہیں تو پوری تصویر بدل جاتی ہے۔ تب صورتحال ایسی ہو جاتی ہے جیسے ایک گاڑی ٹریفک میں پھنس جائے۔۔۔آگے بڑھے تو نقصان۔۔۔ پیچھے ہٹے تو بھی مسئلہ اور  اگر رک جائے تو بحران بڑھتا چلا جائے۔ ایران اور امریکہ کا موجودہ تنازع بھی اسی پیچیدہ کیفیت میں داخل ہو چکا ہے جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہے۔ موجودہ  تناظر میں اگر دیکھا جائے تو تین ایسے ممکنہ راستے موجود ہیں جن کے ذریعے دونوں ممالک نہ صرف اپنی خودداری اور قومی وقار کو برقرار رکھ سکتے ہیں بلکہ دونوں ملک ایک حقیقی کامیاب حل کے ساتھ دنیا کو بھی استحکام دے سکتے ہیں۔ پہلا راستہ ایک تکنیکی معاہدے کا ہے جس میں سیاسی نعرے بازی کے بجائے عملی فریم ورک پر اتفاق کیا جائے۔ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کو شفاف اور محدود رکھے جبکہ امریکہ مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی کرے ۔ اس پورے عمل میں غیر متنازعہ عالمی ادارے نگرانی کر...

بدلتی دنیا اور مسلم ممالک کی باہمی طاقت اور مشترکہ مستقبل

Image
  موجودہ حالات کے تناظر میں کہ پاکستان اور ایران کی تھوڑی سی انڈرسٹینڈنگ نے اور اللہ کی عطا کردہ صلاحیتیں جو پاکستان کو جیو پولیٹیکل صورتحال اور نیوکلیئر پاور ہونے کی وجہ سے حاصل ہیں اور ایران کو خاص طور پر تیل کے ذخائر اور آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے حاصل ہیں ان سب نے مل کر دنیا میں ایک نئی سوچ پیدا کی ہے ایران کی ثابت قدمی نے عالمی طاقتوں کو بھی مذاکرات کی میز تک آنے پر مجبور کیا ہے اسی تناظر میں یہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک کے پاس اپنی اپنی اہمیت اور اپنی اپنی طاقت موجود ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو کوئی نہ کوئی خاص صلاحیت دی ہے اسی طرح ہر مسلم ملک کو بھی کوئی نہ کوئی منفرد مقام اور برتری حاصل ہے اگر یہ ممالک واقعی امت کے تصور کے تحت آپس میں بہتر ہم آہنگی پیدا کریں اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو عالمی سطح پر ان کی حیثیت کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتی ہے عالمی اداروں اور بین الاقوامی فورمز پر ہونے والی پالیسی سازی اور فیصلوں میں اگر مسلم ممالک ایک موقف اختیار کریں تو ان کی آواز زیادہ طاقتور بن سک...

سخاوت — دل کی وسعت کا نام

Image
انسان انسان ہوتا ہے، فرشتہ نہیں بن  سکتا۔ ہر انسان میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور خامیاں بھی۔ ہم آج کل کے حالات کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو اکثر ہمیں بہت زیادہ برائیوں میں سے کم تر درجے کی برائی کا انتخاب کرنا پڑتا ہے کیونکہ کامل انسان کہیں نہیں ملتا۔ زندگی کے اسی تجربے نے ایک بات سکھائی ہے کہ سخاوت یا سخی ہونا ایسی خوبی ہے جو انسان کی بے شمار کوتاہیوں پر پردہ ڈال دیتی ہے جبکہ بخل یا کنجوسی ایسی خامی ہے جو انسان کی بہت ساری خوبیوں کو بھی دبا دیتی ہے۔ عام طور پر جب ہم سخاوت کا لفظ سنتے ہیں تو فوراً ذہن میں یہی آتا ہے کہ کوئی شخص پیسہ خرچ کرتا ہو، اس کا دسترخوان وسیع ہو، وہ مالی مدد کرتا ہو۔ بلاشبہ یہ بھی سخاوت ہے، لیکن آج کے حالات میں ایک اور قسم کی کمی بہت شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ بعض لوگ اس قدر کنجوس ہوتے ہیں کہ کسی کی صحیح بات کی بھی تائید نہیں کرتے صرف اس لیے کہ دل میں ماضی کی کوئی تلخی موجود ہوتی ہے۔ کسی کی تخلیق، کسی کی کامیابی یا کسی کے اچھے کام کی تعریف نہیں کرتے کیونکہ دل کے اندر کہیں نہ کہیں بخل یا بغض بیٹھا ہوتا ہے۔ اہل عقل و شعور کا ماننا ہے کہ یہ کنجوسی کی انتہا ہے۔ یہ وہ بخل ...

اللہ پہ توکل ہی کامیابی کا راستہ ہے....اور جو اللہ پر توکل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے

Image
  انسانی زندگی میں دکھ، تکلیف، نقصان اور آزمائشیں آنا کوئی نئی بات نہیں۔ خاص طور پر جب انسان کاروبار سے وابستہ ہو یا معاشرے میں لوگوں کے درمیان زندگی گزار رہا ہو تو روزانہ کسی نہ کسی امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی مالی نقصان، کبھی لوگوں کے رویّے، کبھی جذباتی دھچکے—یہ سب چیزیں انسان کو اندر سے توڑنے لگتی ہیں ۔ میں جب اللہ پر توکل کے بارے میں سوچتا ہوں تو ایک مثال بار بار ذہن میں آتی ہے، اور وہ ہے پین کلر۔ جب ہمیں کوئی چوٹ لگتی ہے یا شدید درد ہوتا ہے تو ڈاکٹر ہمیں پین کلر دیتے ہیں۔ اس دوا سے نہ تو زخم فوراً ختم ہو جاتا ہے اور نہ ہی مسئلہ ایک دم حل ہوتا ہے، مگر ہوتا یہ ہے کہ ہماری درد محسوس کرنے کی صلاحیت وقتی طور پر کم ہو جاتی ہے۔ درد اپنی جگہ موجود رہتا ہے، لیکن ہم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ اسے برداشت کر سکیں۔ اسی دوران زخم کو ٹھیک ہونے کا وقت ملتا ہے، اور آہستہ آہستہ ہم نارمل زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ بالکل یہی معاملہ سرجری یا کسی بڑے آپریشن کے بعد ہوتا ہے۔ شروع میں درد کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے، مگر پین کلرز اس شدت کو کم کر دیتے ہیں۔ وقت گزرتا ہے، زخم بھرنے لگتا ہے، اور مریض دوبارہ اپن...

Great People always fly with....

Image
  Pakistan International Airlines (PIA) Pakistan International Airlines (PIA), the national flag carrier of Pakistan, stands as a timeless symbol of national pride, resilience, and pioneering spirit. Established in 1955 through the merger of Orient Airways and government initiatives, PIA emerged in the early years of an independent Pakistan, connecting the nation's divided wings—East and West Pakistan—and bridging the young country to the world. From its inception, PIA embodied the dreams of a new nation, soaring high with ambition and excellence. In its golden era during the 1960s and 1970s, PIA was hailed as one of Asia's finest airlines, renowned for its professionalism, impeccable service, and innovative achievements. It became the first Asian airline to operate jet aircraft, introducing the Boeing 707 in 1960. PIA set unbreakable records, including the fastest subsonic flight from London to Karachi in 1962, clocking just 6 hours, 43 minutes, and 51 seconds—a feat that stil...

گردےمارچائے

Image
  ہوٹل والا دال میں کچھ افیم جیسی نشے والی چیز ڈالتا ہےاور لوگ کھاکر مزے سے جھومتے ہیں  کل رات میں سعدی ٹاؤن ایک سیاسی فنکشن میں گیا ۔ چائے کا کپ آیا تو زبردست رنگ تھا اور چائے دودھ کی طرح گاڑھی ۔ \ میں نے پوچھا چائے کس نے بنائی ہے؟ میزبان نے فخریہ انداز میں بتایا کہ مہمانوں کیلئے چائے ساتھ والے ہوٹل سے منگوائی ہے ۔ میں نے کپ چپ چاپ ایک طرف کھسکا دیا اور لالا موسیٰ گجرات کی کھائی ایک مشہور دال یاد آگئی ۔ دسمبر 1983 میں آرمی جوائن کی تھی ـ پہلی پوسٹنگ سی ایم ایچ کھاریاں چھاؤنی میں ہوئی ـ تب کھاریاں ایک مثالی فوجی چھاؤنی تھی ـ سادگی اور فوجی زندگی کی جھلک واضح  ـ ہر طرف صرف فوجی یونٹیں اور فوجی وردی میں جوان گھومتے نظر آتے تھے ـ آج کی طرح نہیں کہ میگا شاپنگ مال اور ملیر کینٹ میں فرق کرنا بھی مشکل ہے ـ  کھانا پینا آفیسرز میس یا آفیسرز کلب میں ہی ہوتا تھا ـ ہم تو ہفتوں بعد بھی نہ چھاؤنی سے باہر جانے کا سوچتے تھے نہ شوق تھا ۔ کسی سے سنا کہ لالا موسیٰ کے پاس کوئی ہوٹل ہے جس کی دال بہت مشہور ہے اور وہاں ہر وقت رش لگا رہتا ہے ۔ ہم بھی ایک دو دفعہ گئے ۔ کھا کر عجیب سا سرور م...

زمینی گدھ پلی بارگین کر کے اپنے مال واسباب میں موجود اضافی بوجھ بیوی، بیوی، سالے،داماد، بہنوئی، بھانجے بھتیجے میں تقسیم کرکے آسمانی گدھ کی طرح دوبارہ سے اسی کام میں جت جاتے ہیں.

Image
  سندھ کے گدھ  (Vultures) گدھ !  جسے فطرت نے زمین کی صفائی کے لئے مرکوز کیا ہے صدیوں سے زمین کو مردہ جانوروں کے زہریلے مواد سے پاک کرنے کا فریضہ انجام دے رہے تھے.حکمرانی کی جبلت لئے انسانوں کی ناعاقبت اندیشی کی بھینٹ  چڑھنے لگے اور خطے میں دستیاب چار کروڑ سے زائد گدھ گھٹ کر چند ہزار رہ گئے ہیں. جس کا سہرا زمین پر بسنے والے ان اعلی دماغوں کے سر جاتا ہے جن کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے کتوں کو زہر دے کر ہلاک کرنے کا طریقہ اپنایا گیا لیکن کرپشن زدہ سوچ نے مردہ کتوں کو ٹھکانے لگانے کے لئے مختص رقم سے کرپشن کے پلازے تعمیر کرنے شروع کردئیے اور مردہ کتوں کو کھلے آسمان تلے گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ گئے.تب قدرت کے کاموں میں مداخلت کی سزا کا عمل یوں شروع ہوا کہ ملک بھر میں مردہ کتوں کی آلائشیں اردگرد کی زرعی زمینوں اور شہروں کے اطراف گندے نالوں میں ناجائز کاشت کی گئی فصلوں میں حلول ہونے ہونے لگیں. کروڑوں کتوں کا زہریلا مردار گوشت کھاتے ہی گدھ بھی کتوں کے مارنے کے لئے استعمال ہونے والے زہر کا شکار ہونے لگے اور چند ہی سالوں میں چار کروڑ سے زائد گدھ زہریلے کتوں کا مردار گوشت کھانے کے س...

گولڈن ووٹ کی ایجاد کے بعد کراچی کے ووٹ بینک پر کنٹرول کی حکمت عملی

Image
 شہر قائد کی سیاسی ابجد پر نظر رکھنے والے تجربہ کار ذہن اب اس بات پر متفق ہو رہے ہیں کہ کراچی اب ماضی کے مقابلے میں ایک بالکل نئے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نقشے میں ڈھل چکا ہے. شہر کی آبادی میں مہاجر کمیونٹی سب سے بڑی لسانی گروپ سمجھی جاتی ہے جن کا تناسب تقریباً % 50.60  ہے پشتون %13.52 اور سندھی %11.12 ہیں.لسانی آبادی کا یہ بدلتا ہوا تناسب واضح اشارہ ہے کہ کراچی کی نسلی شناخت اور سیاسی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں اور کوئی بھی جماعت اگر صرف ایک ہی شناخت پر انحصار کرے گی تو اس کی مقبولیت محدود ہو جائے گی.  متحدہ قومی موومنٹ جو کبھی کراچی کی سب سے بڑی شہری جماعت تھی اب اندرونی دھڑے بندی، قیادت کے اختلافات اور عوامی رابطے کی کمی کی وجہ سے اپنا اثر کھو چکی ہے دوسری طرف تحریک انصاف نے 2018 کے انتخابات میں کراچی میں ناقابل یقین انتخابی کامیابی کے نتیجے میں بہت سے حلقے جیت کر سندھ کی سیاست میں ایک نئے شراکت دار کو جنم دیا.عوامی مزاج اور بدلتے سیاسی موسم کی  ایک نئی مثال قائم کی. لیکن آج اس جماعت کو گورننس کے معاملات میں نا تجربہ کاری، اداروں سے تصادم اور عوامی امنگوں پر پ...

ڈبل ناشتہ

Image
  تحریر: بریگیڈیئر(ریٹائرڈ) بشیر آرائیں بی بی جی کیا گئیں کہ ہماری تو دنیا ہی بدل گئی! خوف آتا تھا کہ نوابشاہ گٸے تو خالی گھر کیسے دیکھ پائیں گے. اس عمر میں ماں کے علاوہ کون منہ چومتا ہے اور واقعی یہ خواہش آہستہ آہستہ اندر ہی اندر کہیں دفن ہوتی گٸی. نہ جانے کیوں دیوار پر لگی بی بی جی کی تصویر کو بہت قریب کھڑا ہو کر تب تک دیکھتا رہتا ہوں جب تک نظر دھندلا نہ جاٸے. پھر خود کو ہی سمجھاتا ہوں کہ میاں تصویریں کہاں ماتھا چومتی ہیں. انسان مرنے والوں کے ساتھ کہاں مر پاتا ہے. جیتا ہی رہتا ہے. بیوی، بچوں، دوستوں کی ڈھارس اور ساتھ نوکری کے جھمیلوں نے آہستہ آہستہ میرا درد بھی کم کرنا شروع کردیا تھا. بی بی جی کی غیر موجودگی سب ہی کو محسوس ہوتی تھی مگر اصل تنہاٸیاں تو میاں جی کے حصے میں آئیں. وہ بی بی جی کی وفات کے وقت 95 سال کے تھے اور سنتے بھی کم تھے. ہم کوئی بات کرتے تو انکو سنائی ہی نہ دیتی تھی.جب سمجھ نہ پاتے تو بی بی جی کی طرف دیکھتے اور بی بی جی وہی بات دھیمی سی آواز میں دہرا دیتیں اور وہ ان کے ہلتے ہونٹوں کی طرف دیکھ کر مکمل بات سمجھ جاتے تھے اور اسکا صحیح صحیح جواب بھی دے دیتے ۔  یہ...